Urdu book · خاتونِ اسلام

عورت کی رضا مندی

Urdu book, p. 350

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ صرف سفارش کر رہا ہوں۔ بریرہ نے کہا: مجھے اس کی حاجت نہیں۔ تعدد ازواج کا ایک واقعہ ہے جو حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانے میں پیش آیا۔ ایک بیوہ خاتون ام ابان بن عقبہ کو چار مسلمانوں کی طرف سے نکاح کا پیغام ملا جو سب کے سب شادی شدہ تھے۔ ان چار حضرات کے نام یہ ہیں۔ عمر بن الخطاب، علی بن ابی طالب ، زبیر اور طلحہ۔ ام ابان نے طلحہ کا پیغام قبول کر لیا اور بقیہ تینوں کے لیے انکار کر دیا۔ اس کے بعد ام ابان کا نکاح طلحہ سے کر دیا گیا۔ یہ واقعہ مدینہ (اسلامی دارالسلطنت) میں ہوا۔ جن لوگوں کے پیغام کو رد کیا گیا، ان میں وقت کے امیر المومنین کا نام بھی شامل تھا۔ مگر اس پر کسی نے تعجب یا بیزاری کا اظہار نہیں کیا۔ اور نہ اس بنا پر وہاں امن وامان کا مسئلہ پیدا ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلام میں عورت کو اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ یہ عورت کا ایک ایسا حق ہے جس کو کوئی بھی اس سے چھین نہیں سکتا، حتیٰ کہ وقت کا حکمراں بھی نہیں۔ ان احکام اور واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں چار کی حد تک نکاح کرنے کی اجازت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی مرد چار عورتوں کو پکڑ کر اپنے گھر میں بند کر لے۔ یہ دوطرفہ رضامندی کا معاملہ ہے۔ وہی عورت کسی شادی شدہ مرد کے نکاح میں لائی جاسکتی ہے جو خود اس کی دوسری یا تیسری بیوی بننے پر بلا اکراہ راضی ہو۔ اور جب یہ معاملہ تر عورت کی رضامندی سے انجام پاتا ہے تو اس پر کسی کو اعتراض کرنے کا کیا حق۔ موجودہ زمانے میں آزادی انتخاب (freedom of choice) کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اسلامی قانون میں یہ قدر پوری طرح موجود ہے۔ البتہ ”مساوات نسواں“ کے علم بردار آزادی انتخاب کے ہم معنی بنا دینا چاہتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page