Urdu book · خاتونِ اسلام

مسئلہ کا حل نہ کہ حکم

Urdu book, p. 351

By Maulana Wahiduddin Khan

مسئلہ کا حل نہ کہ حکم مذکورہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عورت اور مرد کی تعداد میں نابرابری ہماری دنیا کا ایک مستقل مسئلہ ہے۔ وہ جنگ کی حالت میں بھی پایا جاتا ہے اور جنگ نہ ہونے کی حالت میں بھی۔ اب سوال یہ ہے کہ جب دونوں صنفوں کی تعداد میں نابرابری ہے تو اس نابرابری کے مسئلے کو کس طرح حل کیا جائے ۔ یک زوجگی کے اصول پر عمل کرنے کے نتیجے میں جن بیوہ یا غیر بیوہ عورتوں کو شوہر نہ ملیں، وہ اپنی فطرت کے تقاضے پورے کرنے کے لیے کیا کریں۔ وہ سماج میں کس طرح اپنے لیے ایک با عزت زندگی حاصل کریں۔ ایک طریقہ وہ ہے جو ہندوستان کی روایات میں بتایا گیا ہے۔ یعنی ایسی (بیوہ) عورتیں اپنے آپ کو جلا کر اپنے وجود کو ختم کر لیں۔ تاکہ نہ ان کا وجود رہے اور نہ ان کے مسائل۔ یا پھر ایسی عورتیں گھر سے محروم ہو کر سڑکوں کی بے کس زندگی گزارنے پر راضی ہو جائیں۔ اس اصول پر عمل کرنے کی بنا پر ہندو سماج کا کیا حال ہوا ہے، اس کی تفصیل جاننا ہو تو انڈیا ٹوڈے (15 نومبر 1987) کی 8 صفحات کی با تصویر رپورٹ ملاحظہ فرمائیں جو اس با معنی عنوان کے تحت شائع ہوئی ہے- بیوائیں، انسانیت کا برباد شدہ ملبہ: Widows: Wrecks of Humanity اس حل کے بارے میں یہاں کسی مزید گفتگو کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ مجھے یہ امید نہیں کہ موجودہ زمانے میں کوئی با ہوش آدمی اس طریقہ کی وکالت کر سکتا ہے یا کسی بھی درجہ میں وہ اس کو مذکورہ مسئلہ کا حل سمجھ سکتا ہے۔ دوسری صورت وہ ہے جو مغربی ملکوں کی "مہذب سوسائٹی" میں رائج ہے۔ یعنی کسی ایک مرد کی دوسری منکوحہ بیوی بننے پر راضی نہ ہونا، البتہ بہت سے مردوں کی غیر منکوحہ بیوی بن جانا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page