خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بعد پروفیسر موصوف کو امریکہ کی انتہا پسند خواتین کی طرف سے نہایت سخت خطابات ملے ہیں۔ مثلاً ظالم خنزیر‘‘ اور ’’مردسادی (male sadist) وغیرہ۔ سادیت، کونت دی سادے(1814-1740ء) کی طرف منسوب ہے۔ اس سے مراد ایک قسم کی جنسی کجروی ہوتی ہے جس کے مبتلا کو اس میں لطف آتا ہے کہ وہ معشوق کو جسمانی تکلیف دے۔ ’’مردسادی‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ایسا مرد جو عورت کے حق میں ظالم ہو۔ کتاب کی اشاعت کے بعد پروفیسر گولڈ برگ سے جب ’’ڈیلی اکسپرس‘‘ کا نمائندہ ملا تو انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا: ’’مساوات نسواں کی علم بردار خواتین مجھ سے نفرت کرتی ہیں۔ مگر مجھے یقین ہے کہ تمام انسانی معاشروں میں مرد کا عمومی غلبہ (male dominance) صرف سماجی حالات کی وجہ سے نہیں ہو سکتا۔‘‘ اس فرق کی زیادہ حقیقت پسندانہ توجیہ یہ ہے کہ اس کو مردانہ ہارمون (male hormone) کا نتیجہ قرار دیا جائے جو کہ ابتدائی جراثومہ حیات پر اس وقت غالب آجاتے ہیں جب کہ وہ ابھی رحم مادر میں ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ چھوٹے بچے چھوٹی بچیوں سے زیادہ جارح ہوتے ہیں اور یہ فرق عین اس وقت ظاہر ہو جاتا ہے جب کہ ابھی وہ سماجی حالات کے زیر اثر بھی نہ آئے ہوں۔ WOMEN ARE BORN SUBORDINATE "It's a rough old world for women, as the feminists never cease to remind us. They blame centuries of social conditioning- a kind of conspiracy whereby men all over the world somehow contrive to keep women in a subordinate role. A much simpler, and more probable explanation is that universal male dominance stems not from social oppression but fundamental differences between the sexes. This is the view put forward by

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader