Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

جانا چاہیے تھا۔ جب ایسا نہ ہوسکا تو اب ہمیں اس کی توجیہ کے لیے کوئی دوسرا سبب تلاش کرنا ہوگا۔ یہ دوسرا سبب آج خود علم انسانی نے دریافت کر لیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ دونوں صنفوں کے درمیان فرق سماجی حالات کی بنا پر نہ تھا بلکہ دونوں کی پیدائشی بناوٹ کی بنا پر تھا۔ اس کا سبب حیاتیات میں تھا، نہ کہ سماجی حالات میں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اس سلسلے میں کافی تحقیقات ہوئی ہیں اور اب یہ بات آخری طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ دونوں صنفوں کے درمیان حیاتیاتی اعتبار سے بنیادی فرق ہے اور جب تک یہ فرق باقی ہے، دونوں کی سماجی حیثیت میں بھی فرق باقی رہے گا۔ مرد اور عورت کا فرق تاریخ کے ہر دور میں عورتیں، مردوں کے ماتحت رہی ہیں، حتی کہ آج بھی مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں یہ صورت حال مکمل طور پر موجود ہے۔ نام نہاد آزادی نسواں تحریک کے مغربی علم بردار اب تک یہ کہتے رہے ہیں کہ یہ کوئی فطری تقسیم نہیں ہے۔ بلکہ سماجی حالات (social conditioning) نے مصنوعی طور پر یہ فرق پیدا کر رکھا ہے۔ تاہم حال میں اس سلسلے میں جو تحقیقات ہوئی ہیں انھوں نے اس مفروضہ کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ امریکا کے پروفیسر اسٹیون گولڈ برگ (2022 Steven Brown Goldberg) نے ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نام ہے ـــ ”نظام سرداری کی ناگزیر یت“: The Inevitability of Patriarchy: Why the Biological Difference Between Men and Women Always Produces Male Domination (New York, 1973) مصنف کہتے ہیں کہ معاشرہ میں عورت مرد کے فرق کی وجہ حقیقتاً کوئی سماجی دباؤ نہیں ہے۔ بلکہ دونوں جنسوں میں بنیادی فطری فرق اس کا سبب ہے۔ اس کتاب کی اشاعت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page