Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

against their own juices. The experience of men is that there are few women who can out-fight them and few who can out-argue them, but when a woman uses feminine means she can deal with any man as an equal. In this and every other society men look to women for gentleness, kindnes and love The basic male motivation is protection of women and children. "The feminist cannot have it both ways: if she wishes to sacrifice all this, all that she will get in return is the right to meet men on male terms. She will lose." (Daily Express, London, July 4, 1977) مساوات نسواں کے علم برداروں کا مقدمہ، خالص علمی اعتبار سے زیادہ مضبوط نہیں ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہوتی کہ مرد کا غلبہ سماجی حالات کی وجہ سے ہے، نہ کہ پیدائشی خصوصیات کی وجہ سے، تو یقیناً کبھی نہ کبھی دنیا کے کسی خطہ میں ایسا معاشرہ ضرور بنتا جس میں عورتوں کو غلبہ حاصل ہوتا۔ جب کہ پوری معلوم تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ حتیٰ کہ اشتراکی معاشرہ میں بھی ایسا نہیں ہے جو جنسی مساوات کا سب سے بڑا علم بردار ہے۔ روس کی وزارتی کابینہ میں 62 وزرا شامل ہیں۔ مگر ان میں کوئی ایک بھی خاتون ممبر نہیں۔ علم الانسان کی ماہر خاتون ڈاکٹر مارگریٹ میڈ، جو خود بھی مساوات نسواں کی تحریک سے تعلق رکھتی ہیں، انھوں نے ساری عمر مختلف انسانی معاشروں کا مطالعہ کیا ہے، تاہم وہ لکھتی ہیں: "ایسے تمام دعوے جن میں زور شور کے ساتھ ایسے معاشروں کا انکشاف کیا گیا ہے جہاں عورتوں کو غلبہ حاصل تھا، بالکل لغو ہے۔ اس قسم کے عقیدہ کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ ہر دور میں مرد ہی امورِ عامہ کے قائد رہے ہیں۔ اور گھر کے اندر بھی اعلیٰ اختیار ہمیشہ انھیں کو حاصل رہا ہے۔"

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page