خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
پروفیسر آئی سنک جنھوں نے ذہانت کا حسابی پیمانہ ایجاد کیا ہے، اور جن کا کہنا ہے کہ کالے اور سانولے رنگ کی نسلیں، سفید فام نسلوں کے مقابلے میں کم تر ذہانت رکھتی ہیں۔ اب انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہی بات عورتوں کے لیے بھی صحیح ہے۔ ان کے جین دراصل ان کو بناتے ہیں۔ حمل کے وقت ہی سے ان کا زنانه پن اسی طرح متعین اور مقرر ہوتا ہے جس طرح کسی کمپیوٹر میں۔ علمائے سماجیات کے دعویٰ کے برعکس، یہ روایت اور ماحول کا اثر نہیں ہے کہ ایک چھوٹی بچی گڑیوں کے کھیلنے کا شوق رکھتی ہے اور ایک چھوٹا بچہ سپاہی کی صورت والے کھلونے سے کھیلتا ہے۔ یہ حیاتیاتی بناوٹ کا اثر ہے۔ حتیٰ کہ ایک لڑکی جب کہ ابھی وہ رحم مادر میں ہوتی ہے وہ لڑکے کے مقابلے میں زیادہ کشادہ پیٹ بنانے لگتی ہے۔ پیٹ جتنا زیادہ کشادہ ہوگا، اتنا ہی اس میں زنانه پن زیادہ ہوگا۔ یہ بھی پایا گیا ہے کہ جن مردوں کے پیٹ چوڑے ہوتے ہیں ان میں زنانه پن، انفعالیت حتیٰ کہ ہم جنسی کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح جن عورتوں کے پیٹ و کم چوڑے ہوتے ہیں ان میں مردانہ اوصاف جارحیت اور ہم جنسی کے رجحانات ہوتے ہیں۔ یہ تجربات اتنے قطعی ہیں کہ کوئی بھی شخص اپنے قریبی لوگوں کا جائزہ لے کر ان کی تصدیق کر سکتا ہے۔ آئی سنک اس سے پہلے نسلی مساوات کے حامیوں کا نشانہ تنقید رہا ہے۔ اب مساوات نسواں کے حامیوں نے بھی اس کے خلاف قلم اٹھا لیا ہے اور اس پر سخت تنقیدیں کی جا رہی ہیں۔ خوشونت سنگھ عورت کی بے بسی جدید تہذیب نے عورت کو برابر کا درجہ دینے کی کوشش میں یہ کیا کہ اس کو مستقل نابرابری کے درجہ پر پہونچا دیا۔ مغربی زندگی کے جس شعبے میں بھی عورت آج کام کر رہی ہے، وہاں وہ مرد کے مقابلے میں صرف دوسرے درجے کی حیثیت رکھتی ہے۔ نیز اس نابرابری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader