خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
کی مزید قیمت اس کو یہ دینی پڑتی ہے کہ ہر جگہ وہ مرد کے مظالم کا شکار ہو رہی ہے۔ یہاں ہم امریکا کی کارکن خواتین کے بارے میں ایک رپورٹ کا خلاصہ درج کرتے ہیں۔ یہ رپورٹ انڈین ایکسپریس میں شائع ہوئی ہے: یہ ایک دہلی بس جیسا تجربہ ہے۔ ذلیل اشارے، جارحانہ زبان، ذاتی حملے۔ امریکا میں کام کا مقام خاتون کارکنوں کے لیے ویسا ہی ہے جیسا کہ دہلی کی بس خاتون مسافروں کے لیے۔ ایک بینک کے صدر یڈنٹ سڈنی ٹیلر نے اپنے بینک کی ایک خاتون کارکن مائیکل ونسن کو جسمانی اذیت پہنچائی اور اس کی عصمت دری بھی کی۔ ایسا چار سال تک ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ مذکورہ خاتون عورتوں کی ایک تنظیم کی مدد سے عدالت گئی۔ ڈسٹرکٹ کورٹ نے اس کی اپیل رد کردی۔ زیادہ تر اس بنا پر کہ وہ چار سال تک خاموش رہی اور اس نے بینک کے شکایتی نظام سے مدد کی درخواست نہیں کی۔ عدالت نے کہا کہ دونوں کے درمیان جو بھی تعلق تھا وہ رضا کارانہ تھا۔ ہائی کورٹ سے یہ مسئلہ ختم نہ ہوسکا اور آخر کار وہ سپریم کورٹ میں پہنچا۔ امریکا کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ کسی کو جنسی طور پر ہراساں کرنا عورت کے روزگار کے حقوق کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔ اس سے ایک مخاصمانہ ماحول پیدا ہوتا ہے جس میں وہ اپنی ملازمت چھوڑنے پر مجبور ہوسکتی ہے یا اپنا کام پوری طرح نہیں کر سکتی۔ حتیٰ کہ اگر اس قسم کا نامحمود جنسی مطالبہ براہِ راست طور پر روزگار کے مفادات سے وابستہ نہ ہو تب بھی عملاً اس کا مطلب ہے ۔ میں جیسا کہتا ہوں ویسے کرو ورنہ تمہیں ملازمت سے نکال دیا جائے گا۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ یہ طریقہ مقامِ عمل پر جنسی امتیاز کی ممانعت کے بارے میں امریکی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ کام کرنے والی عورتوں کو دفتروں میں پریشان کیا جانا ایک وبا کی شکل اختیار کر گیا ہے، خواتین سے متعلق ایک تنظیم نے بتایا۔ پچھلے پانچ برسوں میں دفاتر میں کام کرنے والی خواتین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader