خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
کی تقریباً نصف تعداد نے اس قسم کی بدسلوکی کا تجربہ کیا۔ یہ واقعات صرف کارخانوں میں اور مزدوروں کے ساتھ کام کرنے والی خواتین کے ساتھ پیش نہیں آتے۔ بلکہ اونچی بلڈنگیں اور شاندار دفاتر بھی اپنی خاتون کارکنوں کے لیے اچھے نہیں۔ ان میں وہ عورتیں بھی شامل ہیں جو سکریٹری ہیں یا قانون داں ہیں یا اور کسی اونچے عہدہ پر ہیں۔ مرکزی حکومت میں کام کرنے والی خواتین کی تقریباً 42 فی صد تعداد کو اپنے دفتروں میں پریشان کیا گیا۔ یہ بات ایک حالیہ سروے کے ذریعہ معلوم ہوئی ہے۔ ریاستی حکومتوں کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والی 60 فی صد خواتین نے بتایا کہ جنسی بدسلوکی ان کے لیے ایک عام تجربہ بن چکا ہے۔ 1981 اور 1985 کے درمیان اس قسم کی شکایتوں کی تعداد 70 فی صد تک بڑھ گئی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader