خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں۔ امریکہ کے محکمہ صحت نے ڈاکٹروں کے نام سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ جب وہ بلڈ بینک سے خون کا بوتل منگوائیں تو اس کو باضابطہ ٹیسٹ کے بغیر کسی مریض کو نہ دیں۔ کیوں کہ یہ معلوم ہوا ہے کہ ہزاروں امریکی صرف اس لیے ایڈز کے مریض بن گئے کہ آپریشن یا خون کی کمی کے وقت ان کے جسم میں بلڈ بینک کا خون داخل کیا گیا تھا۔ 1985-86 کے درمیان صرف ایک سال میں امریکہ میں ایسے ایڈز کے مریضوں کی تعداد تقریباً 50 ہزار تھی جو خود اس مرض کا شکار نہیں ہوئے تھے۔ مگر کسی مریض کے ربط کے نتیجے میں ان کو یہ مرض لگ گیا۔ 1986ء کے اعدادوشمار کے مطابق ایڈز کی مہلک بیماری اور اس سے تعلق رکھنے والی بیماریاں امریکہ میں اس سے بہت زیادہ ہیں جتنا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ یہ بات امریکہ وال اسٹریٹ جرنل میں بتائی گئی ہے جرنل نے بتایا کہ جو امریکی ایڈز کا شکار ہیں ان کی تعداد 21 ہزار ہے اور ان میں سے نصف کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ وہ مر جائیں گے۔ ایک لاکھ سے دولاکھ تک ایسے لوگ ہیں جو ایڈز سے تعلق رکھنے والی مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہے : “AIDS IN AMERICA: The dreaded AIDS disease and related diseases are far more prevalent in the U.S. than is generally realised, according to a report in the Wall Street Journal. The paper said the number of Americans who suffer from AIDS is 21,000 and nearly half of them are expected to die. About 100,000 to 200,000 have AIDS-related diseases including lymphadenopathy, thrombocytopenia, candidiasis, diarrhoea, fever, hairy leukoplakia, dementia, neuropathy and Hodgkins.” (The Times of India, June 1, 1986) جولائی 1986 کے پہلے ہفتہ میں پیرس میں ماہرین طب کی ایک کانفرنس ہوئی ۔ اس کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader