Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کا مطلب ہے ۔ جسم کے مدافحتی نظام کی تباہی کی علامت۔ یہ ایک عجیب وغریب قسم کا متعدی مرض ہے جو صرف ملیریا کے بعد نمبر 2 پر سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ساری انسانی تاریخ میں مجموعی طور پر جو موتیں ہوئی ہیں ان میں سے نصف موتیں صرف ملیریا کے ذریعہ ہوئی ہیں۔ اب موجودہ زمانے میں ایڈز کی بیماری ظاہر ہوئی ہے جو بعض اعتبار سے غالباً ملیریا سے بھی زیادہ خطر ناک ہے۔ اس مرض کے جراثیم (Virus) آدمی کے اندر خاموشی سے داخل ہوجاتے ہیں۔ حتی کہ ابتداء آدمی کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ وہ کسی مہلک مرض کا شکار ہوگیا ہے۔ یہ مرض آدمی کے جسم کے فطری دفاعی نظام کو بالکل تباہ کر دیتا ہے۔ ایڈز کے بعد تباہ شدہ مدافحتی نظام (Shattered Immune System) کا اب تک کوئی علاج دریافت نہ ہوسکا۔ کیوں کہ یہ بیماری خون میں شامل ہو جاتی ہے اور آدمی کے پورے جسم کو متاثر کر کے رکھ دیتی ہے۔ ایڈز کے مریض کا یہ حال ہوتا ہے کہ اس کا جسمانی نظام اندر سے بالکل کھوکھلا ہوجاتا ہے۔ اس کو چوٹ لگ جائے تو وہ کسی طرح اچھی نہیں ہوتی۔ بخار ہو تو کوئی دوا کام نہیں کرتی۔ انجکشن لگایا جائے تو وہ بے اثر ثابت ہوتا ہے۔ اس کا خون کسی بھی دوا یا غذا کو قبول نہیں کرتا۔ بیمار کا وزن دن بدن گھٹتا رہتا ہے ۔ وہ بے حد کمزور ہو جاتا ہے۔ وہ کوئی کھانے کی چیز کھا نہیں سکتا۔ اس کے جوڑ جوڑ میں درد ہونے لگتا ہے۔ وہ کوئی کام نہیں کر سکتا۔ اس کے اوپر ہر وقت بد دلی اور اداسی چھائی رہتی ہے، وغیرہ۔ ایڈز کے مریض ایک قسم کے عالمی اچھوت بن کر رہ گئے ہیں۔ وہ کسی کو تحفہ دیں تو ان کا تحفہ قبول نہیں کیا جاتا۔ کیوں کہ سخت اندیشہ ہوتا ہے کہ اس میں اس مہلک مرض کے جراثیم موجود ہوں گے وہ سیاحت کے لیے جائیں تو کال گرلس اور ہوٹلوں کے ملازم ان کے قریب آتے ہوئے ڈرتے ہیں ایسے لوگوں کے دوست لڑکے اور لڑکیاں ان سے دور بھاگتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page