Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

ہم جنسی کا فعل کرنے لگے تھے۔ مگر اس غیر فطری فعل کی سزا انھیں ایک ایسے مہلک مرض کی صورت میں ملی کہ وہ خود ایک دوسرے سے بھاگنے لگے۔ تحقیقات کے دوران مزید معلوم ہوا ہے کہ افریقی جنگوں میں بندروں کی ایک نسل پائی جاتی ہے جس کو عام طور پر ہر ابندر (green monkey) کہتے ہیں۔ ان بندروں میں بھی ایڈز کی قسم کا مرض پایا جاتا ہے۔ یہ بندر تمام معلوم جانوروں میں ایک استثنائی مثال ہیں جو عین وہی ہم جنسی کا فعل کرتے ہیں جس میں آج مغرب کی نوجوان نسل مبتلا ہے۔ اور اس فعل کے نتیجے میں وہ اسی مرض کا شکار رہتے ہیں جس کو موجودہ زمانے میں ڈاکٹروں نے ایڈز کا نام دیا ہے۔ ہریے بندروں کو شاید اللہ تعالیٰ نے عبرت کے طور پر دنیا میں رکھا تھا۔ تا کہ انسان ان کو دیکھ کر سبق لے اور ہم جنسی کا مہلک فعل نہ کرے۔ مگر انسان کی بڑھی ہوئی آزاد روی نے اس کو یہ سبق نہ لینے دیا۔ سان فرانسسکو کو ہم جنسوں کی عالمی راجدھانی کہا جاتا تھا۔ اس امریکی شہر کے بارے میں ایک طبی رپورٹ بتاتی ہے کہ یہاں بہت تیزی سے ایڈز کی بیماری پھیل رہی ہے۔ 1986 کے ابتدائی چھ مہینوں میں ایڈز کے 520 نئے کیس معلوم کیے گئے ہیں۔ ان میں ہر تین میں سے دو کیس سخت مہلک ہیں۔ یعنی کل تعداد کا 67 فی صد۔ پچھلے سال مہلک مریضوں کی تعداد 58 فی صد تھی: “AIDS is sweeping San Francisco, the city known as the ‘gay capital of the world,’ according to medical statistics published on Wednesday. Of the 520 new cases of AIDS recorded in the first six months of the year, more than two out of three—67 per cent—proved to be fatal. This compared with the previous record of 58 per cent fatalities last year.” (The Times of India, July 4, 1986)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page