خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
جب سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ایڈز کی بیماری کا ابتدائی سبب ہم جنسی کا فعل ہے، ہم جنسی کے دل دادۂ لڑکے اور لڑکیاں اس فعل سے اس طرح دور بھاگ رہے ہیں جیسے کوئی شخص طاعون کے مریض کو دیکھ کر اس سے دور بھاگے۔ بعض علاقے جو اس سے پہلے ہم جنسی کا فعل کرنے والے ”رندوں“ سے معمور رہتے تھے۔ اب وہ سنسان ہوتے جا رہے ہیں۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) کے مقالہ ہم جنسی (Homosexuality) میں بتایا گیا ہے کہ ہم جنسی کا فعل اگر چہ مغربی ملکوں میں پہلے سے موجود رہا ہے۔ تاہم اس فعل کا سائنسی مطالعہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ہی کیا جا سکا۔ پروفیسر کنسے (A.C. Kinsey) نے 1948-1952 کے درمیان امریکا میں باقاعدہ اعداد شمار جمع کیے۔ ان کی تحقیق کے مطابق اُس وقت امریکی مردوں کی 37 فی صداور امریکی عورتوں کی 13 فی صد تعداد ہم جنسی کا تجربہ کر چکی تھی۔ دوسرے مغربی ملکوں میں بھی کم وبیش یہ رواج پایا گیا ہے۔ (ایڈز کی طبی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو، ٹائم 3 نومبر 1986) مغربی ملکوں میں عام طور پر ہم جنسی کے خلاف قانون موجود نہیں ہیں۔ البتہ اگر مفعول کم عمر ہو یا فاعل نے اس کے ساتھ جبراً فعل کیا ہو تو وہ غیر قانونی قرار پائے گا۔ اس سے پہلے مغرب میں ہم جنسی کے مرتکب کو تحقیری طور پر لوطی (Sodomy) کہا جاتا تھا۔ مگر اب اس کے لیے ایک بے ضرر لفظ رائج ہو گیا ہے، اور وہ گے (Gay) ہے۔ اس انگریزی لفظ کا مفہوم تقریباً وہی ہے جس کو اردو زبان میں رند یا رند منش کہتے ہیں۔ جو چیز پہلے عمل قوم لوط تھی ۔ وہ اب محض خوش طبعی کے ہم معنی بن گئی۔ برطانیہ میں 1967 میں ہم جنسی کو از روئے قانون جائز قرار دیا گیا تھا۔ اب مزید ترقی ہوئی ہے اور عام طور پر اس کو نکاح کی طرح ایک جائز ادارہ سمجھا جانے لگا ہے۔ ڈنمارک میں ہم جنسی کا فعل کرنے والے جوڑوں کے لیے وراثت کا وہی قانون منظور کیا گیا ہے جو شادی شدہ جوڑوں کے لیے ساری دنیا میں پایا جاتا ہے۔ ڈنمارک کی پارلیمنٹ میں اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader