Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

بسم اللہ الرحمن الرحیم دیباچہ انگریز مستشرق ایڈورڈ ولیم لین (1876-1801ء) نے قرآن کے منتخب حصوں کا انگریزی ترجمہ تیار کیا تھا۔ یہ ترجمہ پہلی بار لندن سے 1843 میں چھپا۔ اس ترجمہ کے ساتھ ایک دیباچہ شامل تھا۔ اس دیباچہ میں فاضل مترجم نے اسلامی تعلیمات کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلام کا تباہ کن پہلو عورت کو حقیر درجہ دینا ہے: “The fatal point in Islam is the degradation of woman.” (Edward William Lane, Selections from Kuran. London 1982. p. XC [Introduction]) یہ بات اتنی عام ہوئی کہ ہر شخص بے تکلف اس کو دہرانے لگا۔ اس بیان پر اب تقریباً ڈیڑھ سو سال گزر چکے ہیں مگر ابھی تک لوگوں کے یقین میں کوئی فرق نہیں آیا۔ ہندوستان کے سابق چیف جسٹس مسٹر وائی وی چندر اچوڑ نے محمد احمد ۔ شاہ بانو کیس میں 1975 میں جو فیصلہ دیا ہے اس میں بھی اس بیان کو اس طرح بے تکلف دہرایا گیا ہے جیسے کہ وہ کوئی مسلمہ حقیقت ہو۔ عورت کے بارے میں اسلام کے نقطہ نظر کو درجہ گرانے (degradation) سے تعبیر کرنا اصل بات کو بگاڑ کر پیش کرنا ہے۔ عورت کے بارے میں اسلام کا کہنا یہ نہیں ہے کہ وہ مرد سے کم ہے۔ اسلام کا کہنا صرف یہ ہے کہ عورت مرد سے مختلف ہے۔ یہ ایک دوسرے کے مقابلے میں فرق کا معاملہ ہے، نہ کہ ایک کے مقابلے میں دوسرے کے بہتر ہونے کا: “Not better, but different.” ایک ڈاکٹر اپنے مریض سے کہتا ہے کہ ۔ آنکھ تمہارے جسم کا نہایت نازک حصہ ہے۔ تم اپنی آنکھ کے ساتھ وہ معاملہ نہیں کر سکتے جو، مثال کے طور پر، تم اپنے ناخن کے ساتھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page