خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
کرتے ہو۔ اپنی آنکھ کے معاملہ میں تم کو زیادہ محتاط رویہ اختیار کرنا پڑے گا۔ ڈاکٹر کی اس ہدایت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ناخن کے مقابلہ میں آنکھ کو کم تر درجہ دے رہا ہے۔ بلکہ وہ ناخن کے مقابلہ میں آنکھ کے فرق کو بتا رہا ہے۔ عورت اور مرد کے بارے میں اسلام میں جو قوانین ہیں، وہ سب اسی اصولی حقیقت پر مبنی ہیں کہ عورت اور مرد دو الگ الگ صنفیں ہیں۔ تخلیقی اعتبار سے دونوں کے اندر قطعی فرق پائے جاتے ہیں۔ اس لیے خاندانی اور سماجی زندگی میں دونوں کا دائرہ عمل ایک نہیں ہوسکتا۔ جب دونوں صنفوں کے درمیان حیاتیاتی بناوٹ کے اعتبار سے فرق ہے تو ان کے درمیان عمل کے اعتبار سے بھی لازماً فرق ہونا چاہیے۔ عورت کے بارے میں یہی تمام آسمانی مذاہب کا نقطہ نظر رہا ہے۔ پچھلی ہزاروں برس کی تاریخ میں کبھی اس پر شبہ نہیں کیا گیا۔ دور جدید میں آزادی نسواں کی تحریک (Women's Liberation Movement) نے پہلی بار دنیا میں یہ ذہن پیدا کیا کہ عورت اور مرد دونوں یکساں ہیں اور دونوں کو ہر میدان میں بالکل یکساں کام کے مواقع ملنے چاہئیں۔ یہ تحریک سب سے پہلے برطانیہ میں اٹھارھویں صدی میں اٹھی۔ اور اس کے بعد پورے یورپ اور امریکہ میں پھیل گئی۔ میری وولسٹون کرافٹ (Mary Wollstonecraft) نے 1792ء میں ایک کتاب چھاپی جس کا نام تھا: A Vindication of the Rights of Women اس کتاب کا خلاصہ یہ تھا: "Women should receive the same treatment as men in education, work opportunities, and politics and that the same moral standards should be applied to both sexes." (Encyclopedia Britannica, X/733)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader