Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

اکثر ریسرچ کرنے والوں نے پایا ہے کہ چھوٹی لڑکیوں میں انحصار کا مادہ زیادہ ہے۔ اس کے برعکس، چھوٹے لڑکوں میں سرگرمی اور خود مختاری زیادہ ہوتی ہے۔ اگر بچوں اور ماں کے درمیان ایک روک کھڑا کر دیا جائے تو لڑکے کے اس کو ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ لڑکیاں بے یار و مددگار ہو کر چلاتی ہیں۔ عورتوں کی انفعالیت ایک بحث کا موضوع رہا ہے۔ اسی طرح دوسرا زیر بحث مسئلہ ہارمون کے اثر کا ہے۔ اس سلسلے میں سائنٹفک محققین کے نتائج سے زیادہ تر بعض خواتین نے اختلاف کیا ہے جو عورتوں کی انفعالیت یا ہارمون کے اثر کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ جہاں تک سائنسی محققین کا سوال ہے انھوں نے تقریباً اجتماعی طور پر اتفاق کیا ہے کہ ہارمون ہی یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ لوگ کس طرح محسوس کریں اور کس طرح عمل کریں۔ عورتوں میں جو بڑھتی ہوئی تاثر پذیری پائی گئی ہے، اس کی بنا پر محققین کا خیال ہے کہ مردوں کے مقابلہ میں عورتیں سخت حالات میں زیادہ جھجک والی ثابت ہو سکتی ہے۔ محققین بتاتے ہیں کہ تمام کلچر میں عورتوں کے مقابلہ میں مرد زیادہ جارح پائے گئے ہیں۔ یہ بھی غالباً دونوں صنفوں کے ہارمون میں فرق ہونے کا نتیجہ ہے یعنی اس کے پیچھے جنینی عامل کام کر رہا ہے بعضوں کا خیال ہے کہ عورتیں بھی مردوں ہی کی طرح جارح ہو سکتی ہیں۔ البتہ ان کی جارحیت عملی کے بجائے لفظی ہوگی۔ لڑکوں اور لڑکیوں کا یہ فرق اس وقت بھی موجود ہوتا ہے جب کہ وہ ابھی ماں کے پیٹ میں ہوتے ہیں۔" کیا کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ صنفی مساوات کا سماج قائم ہو جائے جہاں مردوں اور عورتوں میں کوئی فرق نہ ہو ماسوا جسمانی فرق کے۔" یہ بظاہر نا ممکن معلوم ہوتا ہے۔ ہارمون اور جارحیت کے بارے میں آخری تحقیق ابھی باقی ہے۔ تاہم یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ میل ہارمون اور فیمیل ہارمون میں فرق ہے ۔ اور یہ فرق پیدائش سے پہلے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page