Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

بالکل آغاز حیات میں موجود رہتا ہے۔ تجربات میں دیکھا گیا ہے کہ نر حیوانات کو اگر الگ کر کے رکھا جائے تب بھی وہ آخر تک جارج رہتے ہیں۔ ماہر نفسیات بنڈک نے کہا ہے: "حیاتیات شخصیت پر سبقت لے جاتی ہے۔" عورت کے مقابلہ مرد میں غالب خصوصیات ہونا سابق تصور کے مطابق کلچر کے بجائے خود فطرت سے اس درجہ وابستہ ہے کہ میکائیل لیوس کے الفاظ میں: قدرت ظالم ہے عورت کا رول بحیثیت گھرستن ان کے حیاتیاتی عمل کا ایک ارتقائی نتیجہ ہے۔ دودھ کی بوتل نے عورت کو اس کے بعض کاموں سے رہائی دے دی ہے۔ مگر یونیورسٹی آف مشی گن کے عالم نفسیات بوڈٹ بار ڈوک نے کہا: بچہ کی نگہداشت کی بڑی ذمہ داری اب بھی عورت ہی کے اوپر ہے حتی کہ روس اور دوسرے کمیونسٹ ممالک میں بھی کہا جاتا ہے کہ مادری مہارت زیادہ تراکتسابی چیز ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ اگر جانوروں کو تنہائی میں رکھا جائے اور اس کے بعد کسی ایسے کمرہ میں ان کو لے جایا جائے جہاں ان کو نوع کے بچے ہوں تو مادہ حیوانات ہی بچوں کے پاس جاتی ہے اور ان کی دیکھ بھال میں لگ جاتی ہے۔ جیروم کاگن کہتا ہے: "عورت اور مرد کے حیاتیاتی فرق غالباً مکمل طور پر ختم کیے جا سکتے ہیں اور ایسا سماج بنایا جا سکتا ہے جس میں کسی صنف کو کوئی اہمیت نہ رہے سوا مادری ذمہ داری کے۔ مگر ہمیں پوچھنا چاہیے کہ کیا ایسا سماج اس کے افراد کو مطمئن کر سکے گا۔" اس کے نزدیک لین دین ہی وہ چیز ہے جو افراد کے درمیان تعلقات کو مستحکم اور پرمسرت بناتی ہے۔ عالم نفسیات مارٹن سائمنڈ کہتا ہے: "بنیادی وجہ جس کی بنا پر صنفی یکسانیت ناکام رہے گی، یہ ہے کہ خود جنسی عمل میں مرد دینے والا ہوتا ہے اور عورت قبول کرنے والی ہوتی ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب مرد اپنی اس حیثیت کو حاکمیت سمجھنے لگے اور عورتیں اپنی حیثیت کو ماتحتی۔ صنفی یکسانیت ایک تباہ کن چیز ہے۔ کیوں کہ ایسے سماج میں کوئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page