سائنس توحید کی طرف
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
سائنس توحید کی طرف علمِ طبیعیات میں، نیوٹن کے بعد سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ چار قسم کے قوانین یا طاقتیں ہیں، جو فطرت کے مختلف مظاہر کو کنٹرول کرتی ہیں: 1۔ قوتِ کشش (Gravitational Force) 2۔ برقی مقناطیسی قوت (Electromagnetic Force) 3۔ طاقت ور نیوکلیئر قوت (Strong Nuclear Force) 4۔ کمزور نیوکلیئر قوت (Weak Nuclear Force)۔ کشش کا قانون، ایک واقعے کے مطابق، نیوٹن نے اس وقت معلوم کیا جب کہ اس نے سیب کے درخت سے سیب کو گرتے ہوئے دیکھا۔ "سیب اوپر کی طرف کیوں نہیں گیا، نیچے زمین پر کیوں آیا۔" اس سوال نے اس کو اس جواب تک پہنچایا کہ زمین میں، اور اسی طرح تمام دوسرے کروں میں، جذب و کشش کی قوت کارفرما ہے۔ بعد کو آئن سٹائن نے اس نظریے میں بعض فنی اصلاحات کی۔ تاہم اصل نظریہ اب بھی سائنس میں ایک مسلّمہ اصولِ فطرت کے طور پر مانا جاتا ہے۔ برقی مقناطیسی قانون کا تجربہ پہلی بار فریڈے (Michael Faraday, 1791-1867) نے 1831 میں کیا۔ اس نے دکھایا کہ بجلی کی قوت اور مقناطیس کی قوت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ مقناطیس اور حرکت کو یکجا کیا جائے تو بجلی پیدا ہو جاتی ہے، اور مقناطیس اور بجلی کی لہر کو یکجا کریں تو حرکت وجود میں آجاتی ہے۔ ابتدائی 50 سال تک تمام طبیعی واقعات کی توجیہہ کے لیے مذکورہ دو قوانین کافی سمجھے جاتے تھے۔ مگر موجودہ صدی کے آغاز میں جب ایٹم کے اندرونی ڈھانچے کی بابت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader