سائنس توحید کی طرف
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
معلومات میں اضافہ ہوا، اور یہ معلوم ہوا کہ ایٹم سے بھی چھوٹے ذّرات ہیں جو ایٹم کے اندر کام کر رہے ہیں تو طبیعی نظریات میں تبدیلی شروع ہوگئی۔ یہیں سے طاقت ور نیوکلیئر فورس اور کمزور نیوکلیئر فورس کے نظریات پیدا ہوئے۔ ایٹم کا اندرونی مرکز (نیوکلیس) الیکٹران سے گھرا ہوا ہے، جو کہ پروٹان نامی ذّرات سے بہت زیادہ چھوٹے اور ہلکے ہیں۔ مگر مطالعہ بتاتا کہ ہر الیکٹران وہی چارج رکھتا ہے، جو بھاری پروٹان رکھتے ہیں۔ البتہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ الیکٹران میں منفی برقی چارج ہوتا ہے، اور پروٹان میں مثبت برقی چارج۔ الیکٹران ایٹم کے بیرونی سمت میں اس طرح گردش کرتے ہیں کہ ان کے اور ایٹم کے مرکز (نیوکلیس) کے درمیان بہت زیادہ خلا ہوتا ہے۔ مگر منفی چارج اور مثبت چارج دونوں میں برابر برابر ہوتے ہیں، اور اس بنا پر ایٹم بحیثیت مجموعی برقی اعتبار سے نیوٹرل (neutral) اور قائم (stable) رہتا ہے۔ اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ ایٹم کا مرکز بطورِ قائم (stable) کیوں کر رہتا ہے۔ الیکٹران اور پروٹان الگ الگ ہو کر بکھر کیوں نہیں جاتے۔ قائم رہنے (stability) کی توجیہہ طبیعیاتی طور پر یہ کی گئی ہے کہ پروٹان اور نیوٹران کے قریب ایک نئی قسم کی طاقتور قوت کشش موجود ہوتی ہے۔ یہ قوت ایک قسم کے ذّرات سے نکلتی ہے جن کو میسن (Mesons) کہا جاتا ہے۔ ایٹم کے اندر پروٹان اور نیوٹران کے ذّرات بنیادی طور پر یکساں (identical) سمجھے جاتے ہیں۔ مقناطیس کے دو ٹکڑوں کو لیں اور دونوں کے یکساں رخ (ساؤتھ پول کو ساؤتھ پول سے یا نارتھ پول کو نارتھ پول سے) ملائیں تو وہ ایک دوسرے کو دور پھینکیں گے۔ اس معروف طبیعی اصول کے مطابق پروٹان اور نیوٹران کو ایک دوسرے سے بھاگنا چاہیے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ کیونکہ پروٹان اور نیوٹران ہر لمحہ بدلتے رہتے ہیں، اور اس بدلنے کے دوران میسن کی صورت میں قوت خارج کرتے ہیں، جوان کو جوڑتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader