Urdu book · خدا کی دریافت

سائنس توحید کی طرف

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ اسی کا نام طاقت ور نیوکلیئر فورس ہے۔ اسی طرح سائنس دانوں نے دیکھا کہ بعض ایٹم کے کچھ ذرات (نیوٹران میسن) اچانک ٹوٹ جاتے ہیں۔ یہ صورتِ حال مثلاً ریڈیم میں پیش آتی ہے۔ ایٹم کے ذرات کا اس طرح اچانک ٹوٹنا طبیعیات کے مسلمہ اصولِ تعلیل (causality) کے خلاف ہے۔ کیوں کہ پیشگی طور پر یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ ایٹم کے متعدد ذرات میں سے کون سا ذرہ پہلے ٹوٹے گا۔ اس کا مدار تمام تر اتفاق پر ہے۔ اس مظہر کی توجیہ کے لیے ایٹم میں جو پر اسرار طاقت فرض کی گئی ہے، اسی کا نام کمزور نیوکلیئر فورس ہے۔ سائنس داں یہ یقین کرتے رہے ہیں کہ انھیں چار طاقتوں کے تعامل(interactions) سے کائنات کے تمام واقعات ظہور میں آتے ہیں۔ مگر سائنس عین اپنی فطرت کے لحاظ سے ہمیشہ وحدت کی کھوج میں رہتی ہے۔ کائنات کا سائنسی مشاہدہ بتاتا ہے کہ پوری کائنات انتہائی ہم آہنگ ہو کر چل رہی ہے۔ یہ حیرت ناک ہم آہنگی اشارہ کرتی ہے کہ کوئی ایک قانون ہے، جو فطرت کے پورے نظام میں کار فرما ہے۔ چنانچہ طبیعیات مستقل طور پر ایک متحدہ اصول (unified theory) کی تلاش میں ہے۔ سائنس کا ”ضمیر“ متواتر طور پر اس جد و جہد میں رہتا ہے کہ وہ قوانینِ فطرت کی تعداد کو کم کرے اور کوئی ایک ایسا اصولِ فطرت (principle of nature) دریافت کرے جو تمام واقعات کی توجیہ کرنے والا ہو۔ آئن اسٹائن نے مذکورہ قوانین میں سے پہلے دو قوانین کشش اور برقی مقناطیسیت کے اتحاد (unification) کی کوشش کی، اور اس میں 25 سال سے زیادہ مدت تک لگا رہا، مگر وہ کامیاب نہ ہوسکا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنی موت سے کچھ پہلے اس نے اپنے لڑکے سے کہا تھا کہ میری تمنا تھی کہ میں اور زیادہ ریاضی جانتا تا کہ اس مسئلے کو حل کرلیتا۔ ڈاکٹر عبد السلام (1996-1926) اور دوسرے دو امریکی سائنس دانوں، شیلڈن لی گلاشو (1932 .Sheldon Lee Glashow, b) اور وین برگ (Steven

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page