Urdu book · خدا کی دریافت

اختیار اور بے اختیاری

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

اختیار اور بے اختیاری مشہور سائنسداں آئن اسٹائن نے طبیعیاتی دنیا کے اصول کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا ہے— توانائی نہ پیدا کی جاسکتی، اور نہ ختم کی جاسکتی: Energy can be neither created nor destroyed. (Julian Schwinger: Einstein's Legacy: The Unity of Space and Time, p. 117) یہ واقعہ خالق کی قدرت کاملہ کا ثبوت ہے۔ انسان موجودہ دنیا کو صرف استعمال کر سکتا ہے۔ وہ اس کو بدلنے یا اس کو مٹانے پر قادر نہیں۔ اسی سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کی حیثیت کیا ہے۔ انسان اس دنیا میں مالک کی حیثیت سے نہیں ہے، بلکہ صرف تابع کی حیثیت سے ہے۔ اسی صورتِ حال کو مذہب کی اصطلاح میں امتحان کہا جاتا ہے۔ انسان اس دنیا میں صرف اس لیے آتا ہے تا کہ وہ محدود مدت میں یہاں رہ کر اپنے امتحان کا پرچہ پورا کرے ۔ اس کے بعد وہ یہاں سے چلا جائے گا۔ اس سے زیادہ کسی اور چیز کا اس کو مطلق اختیار نہیں۔ بعض انسان دنیا کے حالات سے مایوس ہو کر خود کشی کر لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو ختم یا معدوم کر رہے ہیں، مگر ایسا ہونا ممکن نہیں۔ جس طرح دنیا کی اُس توانائی کو مٹایا نہیں جاسکتا جو مادہ کے روپ میں ظاہر ہوئی ہے۔ اسی طرح یہاں اس توانائی کو مٹانا بھی ممکن نہیں، جو انسان کی صورت میں متشکل ہوتی ہے۔ انسان کے اختیار میں خود کشی ہے، مگر انسان کے اختیار میں معدومیت نہیں۔ یہ صورتِ حال علامتی طور پر بتاتی ہے کہ انسان کا معاملہ اس دنیا میں کیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page