Urdu book · خدا کی دریافت

دیباچہ

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

دریافت کے بعد کوانٹم فرکس میں پراببیلیٹی کو یقین کے قریب کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اب یہ مانا جاتا ہے : Probability is less than certainty but it is more than perhaps. حق کی تلاش ایک فطری تلاش ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے، تو وہ سب سے پہلے یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کیا ہے، وہ کیسے وجود میں آیا، دنیا میں اس کی معنویت کیا ہے۔ اسی کا نام حق کی تلاش ہے۔ یہ ہمیشہ تمام پیدا ہونے والے انسانوں کی مشترک تلاش رہی ہے۔ شاید کوئی بھی انسان اس اسپرٹ سے خالی نہیں۔ کسی نے اس تلاش کو فلسفیانہ تلاش کا درجہ دیا، کوئی اس کو صوفیانہ تلاش سمجھا، کسی نے اس کو مراقبہ (meditation) کے ذریعے دریافت کرنا چاہا، کسی نے یہ سمجھا کہ روحانی ریاضت کے ذریعے وہ اس کو پا سکتا ہے، کسی نے کسی اور طریقے سے اس منزل تک پہنچنے کی کوشش کی۔ جہاں تک راقم الحروف کا اندازہ ہے، اٹلی کے سائنسداں گلیلیو (1642-1564ء) کے زمانے سے اس تلاش نے ایک نیا انداز اختیار کیا۔ اب یہ ہوا کہ اس تلاش کا کمیاتی پہلو (quantitative aspect) ، اور اس کا کیفیاتی پہلو (qualitative aspect) ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا۔ یہی دور اب تک جاری ہے۔ خورد بین اور دوربین کی دریافت نے اس تلاش میں ایک نئے دور کا اضافہ کیا ہے۔ اب انسان نے یہ جانا کہ اس سوال کا کیفیاتی پہلو (qualitative aspect) عملاً قابل دریافت نہیں ہے، لیکن اس کا کمیاتی پہلو (quantitative aspect) بڑی حد تک قابل دریافت ہے۔ اب یہ ہوا کہ دونوں پہلو ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔ کیفیاتی پہلو کچھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page