دیباچہ
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
دیکھنا اس دنیا میں کسی انسان کے لیے ممکن نہیں۔ میں نے ایک مرتبہ کسی مضمون میں لکھا تھا— خدا کو ماننا عجیب ہے، لیکن خدا کو نہ ماننا اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ جب میں خدا کو مانتا ہوں تو میں زیادہ عجیب کے مقابلے میں عجیب کو ترجیح دیتا ہوں: To believe in God is strange, but not believing in God is stranger still. When I say that I believe in God I prefer the less strange to the more strange. البرٹ آئن سٹائن کے ایک جرمن دوست نے اس سے پوچھا کیا آپ اتھیسٹ (atheist) ہیں۔ اس نے کہا کہ نہیں۔ تم مجھ کو زیادہ صحیح طور پر اگنا سٹک (agnostic) کہہ سکتے ہو۔ اگنا سٹک کا مطلب متشلک ہے۔ یعنی کہنے والا یہ کہہ رہا ہے کہ میں نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ خدا نہیں ہے، اور نہ یہ کہہ سکتا کہ خدا ہے۔ اس جملہ کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ خدا کے انکار کے حق میں میرے پاس کوئی دلیل نہیں۔ البتہ سائنٹفک دلائل (scientific evidence) اس معاملے میں اتنے زیادہ ہیں کہ میں یہ بھی کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں کہ خدا نہیں ہے۔ آئن سٹائن کا یہ جملہ ففٹی ففٹی کا جملہ نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے: I can say that probably there is a God but I cannot say in certain terms, 'Yes there is certainly a God'. کوانٹم فزکس (quantum physics) کی اصطلاح میں میں کہوں گا کہ آئن سٹائن کا یہ کہنا خدا کے اقرار کے ہم معنی ہے۔ کیوں کہ سب اٹمک پارٹیکل (subatomic particle) اور پرابیبلٹی ویوز (probability waves) کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader