Urdu book · خدا کی دریافت

خدا کا تصور

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کا تصور سیکولر فکر رکھنے والے متعدد اہل علم نے یہ بات کہی ہے کہ خدا کا کوئی حقیقی وجود نہیں ، وہ انسانی ذہن کی تخلیق ہے ــ خدا ، انسان کی ایک عظیم ایجاد ہے (God is a great invention by man)ـ یہ صرف ایک ورڈ پلے (word play) ہے۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ اس طرح کہا جائے ــ انسان ، خدا کی ایک عظیم تخلیق ہے: Man is a great creation by God خدا کے وجود کے بارے میں علمی غور وفکر سب سے پہلے فلسفے میں شروع ہوا۔ فلسفہ اس معاملے میں کسی حتمی انجام تک نہ پہنچ سکا۔ اطالوی سائنس داں گیلیو اور برٹش سائنس داں نیوٹن کے بعد غور وفکر کا سائنسی انداز شروع ہوا۔ سائنس کا موضوع اگر چہ خالق نہیں ہے ، بلکہ اس کے اپنے الفاظ میں ، نیچر (nature) ہے۔ مگر نیچر کیا ہے۔ نیچر تخلیق کا دوسرا نام ہے۔ گویا سائنس کا موضوع ہے: خالق کے حوالے کے بغیر مخلوق (creation) کا مطالعہ کرنا۔ سائنسی مطالعے میں پہلے، نیوٹن کے زمانے میں، یہ مان لیا گیا تھا کہ دنیا ایک میکانیکل ڈیزائن (mechanical design) ہے۔ اس کے بعد ردر فورڈ (1937-1871 ,Ernest Rutherford) کے زمانے میں معلوم ہوا کہ دنیا ایک بامعنی ڈیزائن (meaningful design) ہے۔ اس کے بعد فریڈ ہائل کا زمانہ آیا، جب کہ یہ دریافت ہوا کہ دنیا ایک انٹیلیجنٹ ڈیزائن ہے۔ ان دریافتوں کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ خدا کا وجود علمی طور پر دریافت ہو چکا ہے۔ اب سارا معاملہ صرف تسمیہ (nomenclature) کا ہے، یعنی یہ کہ اس دریافت شدہ حقیقت کا نام کیا ہو۔ فلسفیوں نے اس حقیقت کو ورلڈ اسپرٹ ( world spirit) کہا تھا۔ سائنس اس کو انٹیلیجنٹ ڈیزائن کہہ رہی ہے۔ اہل مذہب کی زبان میں اسی حقیقت کا نام خدا(God) ہے۔ سائنس نے صرف تخلیق کو دریافت کیا، لیکن تخلیق کے دریافت کے ساتھ ہی خالق اپنے آپ دریافت ہو جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page