Urdu book · خدا کی دریافت

مخالفین مذہب کا استدلال

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

مخالفین مذہب کا استدلال " جس طرح ایٹم کے ٹوٹنے سے مادہ کے بارے میں انسان کے پچھلے تمام تصورات ختم ہو گئے اسی طرح پچھلی صدیوں میں علم کی جو ترقی ہوئی ہے وہ بھی ایک قسم کا علمی دھما کہ (knowledge explosion) ہے جس کے بعد خدا اور مذہب کے متعلق تمام پرانے خیالات بھک سے اُڑ گئے ہیں"۔ (ہندوستان ٹائمز ، سنڈے میگزین ، 23 ستمبر 1961) یہ جولین ہکسلے (وفات 1975) کے الفاظ ہیں۔ جدید بے خدا مفکرین کے نزدیک مذہب کوئی حقیقی چیز نہیں۔ وہ انسان کی صرف اس خصوصیت کا نتیجہ ہے کہ وہ کائنات کی توجیہ کرنا چاہتا ہے۔ توجیہ تلاش کرنے کا انسانی جذبہ بذاتِ خود غلط نہیں ہے۔ مگر کم تر معلومات نے ہمارے پرانے اجداد کو ان غلط جوابات تک پہنچا دیا، جس کو خدا یا مذہب کہا جاتا ہے۔ اب جس طرح بہت سے دوسرے معاملات میں انسان نے اپنی علمی ترقی سے ماضی کی غلطیوں کی اصلاح کی ہے، اسی طرح توجیہ کے معاملے میں بھی وہ آج اس پوزیشن میں ہے کہ اپنی انتہائی غلطیوں کی اصلاح کر سکے۔ اس طریق فکر کے مطابق مذہب، حقیقی واقعات کی غیر حقیقی توجیہ ہے، پہلے زمانے میں انسان کا علم چونکہ بہت محدود تھا اس لیے واقعات کی صحیح توجیہ میں اسے کامیابی نہیں ہوئی، اور اس نے مذہب کے نام سے عجیب عجیب مفروضے قائم کرلیے۔ مگر ارتقا کے عالم گیر قانون نے آدمی کو اس اندھیرے سے نکال دیا ہے، اور جدید معلومات کی روشنی میں یہ ممکن ہو گیا ہے کہ اٹکل پچو عقائد پر ایمان رکھنے کے بجائے خالص تجرباتی اور مشاہداتی ذرائع سے اشیا کی حقیقت معلوم کی جائے۔ چنانچہ وہ تمام چیزیں جن کو پہلے مافوق الطبیعی اسباب کا نتیجہ سمجھا جاتا تھا۔ اب بالکل فطری اسباب کے تحت ان کی تشریح معلوم کرلی گئی ہے۔ جدید

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page