Urdu book · خدا کی دریافت

مخالفین مذہب کا استدلال

Urdu book, p. 128

By Maulana Wahiduddin Khan

طریق مطالعہ نے ہمیں بتا دیا ہے کہ خدا کا وجود فرض کرنا انسان کی کوئی واقعی دریافت نہیں تھی بلکہ یہ محض دورِ لاعلمی کے قیاسات تھے، جو علم کی روشنی پھیلنے کے بعد خود بخود ختم ہو گئے ہیں۔ جولین ہکسلے کہتا ہے: ”نیوٹن نے دکھا دیا ہے کہ کوئی خدا نہیں ہے جو سیاروں کی گردش پر حکومت کرتا ہو۔ لاپلاس نے اپنے مشہور نظریے سے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ فلکی نظام کو خدائی مفروضہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ ڈارون اور پاسچر نے یہی کام حیاتیات کے میدان میں کیا ہے اور موجودہ صدی میں علم النفس کی ترقی اور تاریخی معلومات کے اضافے نے خدا کو اس مفروضہ مقام سے ہٹا دیا ہے کہ وہ انسانی زندگی اور تاریخ کو کنٹرول کرنے والا ہے۔“ (Religion without Revelation, N. Y. 1958. p. 58) طبیعیاتی دنیا میں اس انقلاب کا ہیرو نیوٹن ہے، جس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ کائنات کچھ ناقابل تغیر اصولوں میں بندھی ہوئی ہے۔ کچھ قوانین ہیں جن کے تحت تمام اجرام سماوی حرکت کر رہے ہیں۔ بعد کو دوسرے بے شمار لوگوں نے اس تحقیق کو آگے بڑھایا۔ یہاں تک کہ زمین سے لے کر آسمان تک سارے واقعات ایک اٹل نظام کے تحت ظاہر ہوتے ہوئے نظر آئے، جس کو قانونِ فطرت (law of nature) کا نام دیا گیا۔ اس دریافت کے بعد قدرتی طور پر یہ تصور ختم ہو جاتا ہے کہ کائنات کے پیچھے کوئی فعال اور قادرِ خدا ہے جو اس کو چلا رہا ہے۔ زیادہ سے زیادہ گنجائش اگر ہو سکتی ہے تو ایسے خدا کی جس نے ابتداءً کائنات کو حرکت دی ہو۔ چنانچہ شروع میں لوگ محرکِ اوّل کے طور پر خدا کو مانتے رہے۔ والٹیئر (1778-1694 ,Voltaire) نے کہا کہ خدا نے اس کائنات کو بالکل اسی طرح بنایا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page