مخالفین مذہب کا استدلال
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
دریافتیں صرف ہونے والے واقعات کو بتاتی ہیں، یہ واقعات کیوں ہورہے ہیں، اور ان کا آخری سبب کیا ہے۔ اس کا جواب ان دریافتوں کے اندر نہیں ہے۔ یہ تمام کی تمام دریافتیں صرف درمیانی تشریح (explaination) ہیں، جب کہ مذہب کی جگہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ وہ آخری اور کلی تشریح دریافت کرے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ کسی مشین کے اوپر ڈھکن لگا ہوا ہو تو، ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ چل رہی ہے۔ اگر ڈھکن اتار دیا جائے تو ہم دیکھیں گے کہ باہر کا چکر کس طرح ایک اور چکر سے چل رہا ہے۔ اور وہ چکر کس طرح دوسرے بہت سے پرزوں سے مل کر حرکت کرتا ہے۔ یہاں تک کہ ہوسکتا ہے کہ ہم اس کے سارے پرزوں اور اس کی پوری حرکت کو دیکھ لیں ۔ مگر کیا اس علم کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے مشین کے خالق اور اس کے سبب حرکت کا راز بھی معلوم کرلیا۔ کیا کسی مشین کی کارکردگی کو جان لینے سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ خود بخود بن گئی ہے، اور اپنے آپ چلی جارہی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو کائنات کی کارکردگی کی بعض جھلکیاں دیکھنے سے یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ یہ سارا کارخانہ اپنے آپ قائم ہوا ہے، اور اپنے آپ چلا جا رہا ہے ۔ ہیر یز (Arthur Harris) نے یہی بات کہی تھی جب اس نے ڈارونزم پر تنقید کرتے ہوئے کہا: Natural selection may explain the survival of the fittest, but cannot explain the arrival of the fittest. (The Revolt against Reason by A. Lunn, p. 133) یعنی انتخاب طبیعی کے قانون کا حوالہ صرف زندگی کے بہتر مظاہر باقی رہنے کی توجیہ کرتا ہے ۔ وہ یہ نہیں بتاتا کہ یہ بہتر زندگیاں خود کیسے وجود میں آئیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader