مخالفین مذہب کا استدلال
Urdu book, p. 132
By Maulana Wahiduddin Khan
جائے۔ گویا پہلے یہ سوال تھا کہ ”خول کیسے ٹوٹتا ہے۔“۔ اور اب سوال یہ ہوگیا کہ ”سینگ کیسے بنتی ہے۔“۔ ظاہر ہے کہ دونوں حالتوں میں کوئی نوعی فرق نہیں۔ اس کو زیادہ سے زیادہ حقیقت کا وسیع تر مشاہدہ کہہ سکتے ہیں۔ حقیقت کی توجیہہ کا نام نہیں دے سکتے۔ یہاں میں ایک امریکی عالم حیاتیات (Cecil Boyce Hamann, 1913-1984) کے الفاظ نقل کروں گا: ”غذا ہضم ہونے اور اس کے بدن کا جزء بننے کے حیرت انگیز عمل کو پہلے خدا کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ اب جدید مشاہدے میں وہ کیمیائی ردِّ عمل کا نتیجہ نظر آتا ہے۔ مگر کیا اس کی وجہ سے خدا کے وجود کی نفی ہوگئی۔ آخر وہ کون سی طاقت ہے جس نے کیمیائی اجزا کو پابند کیا کہ وہ اس قسم کا مفید ردِّ عمل ظاہر کریں۔ غذا انسان کے جسم میں داخل ہونے کے بعد ایک عجیب و غریب خود کار نظام کے تحت جس طرح مختلف مراحل سے گزرتی ہے، اس کو دیکھنے کے بعد یہ بات بالکل خارج از بحث معلوم ہوتی ہے کہ یہ حیرت انگیز نظام محض اتفاق سے وجود میں آگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مشاہدے کے بعد تو اور زیادہ ضروری ہوگیا ہے کہ ہم یہ مانیں کہ خدا اپنے ان عظیم قوانین کے ذریعے عمل کرتا ہے جس کے تحت اس نے زندگی کو وجود دیا ہے۔“ (The Evidence of God in an Expanding Universe, p. 221) یعنی فطرت کائنات کی توجیہہ نہیں کرتی، وہ خود اپنے لیے ایک توجیہہ کی طالب ہے۔ بلاشبہ سائنس نے ہم کو بہت سی نئی نئی باتیں بتائی ہیں۔ مگر مذہب جس سوال کا جواب ہے، اس کا ان دریافتوں سے کوئی تعلق نہیں۔ اس قسم کی دریافتیں اگر موجودہ مقدار کے مقابلے میں اربوں، کھر بوں گنا بڑھ جائیں، جب بھی مذہب کی ضرورت باقی رہے گی۔ کیونکہ یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader