Urdu book · خدا کی دریافت

کائنات بول رہی ہے

Urdu book, p. 137

By Maulana Wahiduddin Khan

سے کچھ بھی نہیں ہے۔ جو کچھ ہم نے دیکھا ہے، اس سے کہیں زیادہ ہے، وہ چیز جس کو دیکھنا ابھی باقی ہے۔ یہ حیرت انگیز کاریگری، یہ مکمل منصوبہ بندی، یہ اعلیٰ ترین ذہانت کیا محض اتفاق (chance) سے وقوع میں آ گئی ہے۔ بے شک بعض اوقات محض اتفاق سے بھی کوئی واقعہ ظاہر ہو جاتا ہے۔ مثلاً ہوا کا ایک جھونکا کبھی سرخ گلاب کے زیرہ (pollen) کو اڑا کر سفید گلاب پر ڈال دیتا ہے، جس کے نتیجے میں زرد رنگ کا پھول کھلتا ہے۔ مگر اس قسم کا اتفاق محض جزوی اور خفیف تبدیلیاں پیدا کر سکتا ہے۔ وہ صرف اس مخصوص رنگ کے گلاب کی توجیہ کرتا ہے، نہ کہ وہ گلاب کے پورے وجود کا سبب ہے۔ اتفاق ہرگز اس کی توجیہ نہیں کر سکتا کہ ایک مخصوص قسم کا نظام اس قدر تسلسل کے ساتھ کیوں جاری ہے۔ وہ ہم کو نہیں بتاتا کہ ہماری دنیا میں باقاعدگی اور تنظیم کیوں پائی جاتی ہے۔ "اتفاق" کا عمل کبھی بھی یکساں طور پر نہیں ہو سکتا۔ اتفاق کے لیے ممکن نہیں ہے کہ جو کچھ آج ہوا اسی کو کل بھی وجود میں لائے۔ پھر کیوں تمام چیزیں ہمیشہ یکسانیت کے ساتھ ایک ہی شکل میں ظاہر ہو رہی ہیں۔ ان میں نظم اور باقاعدگی کیوں پائی جاتی ہے۔ کچھ دھات کے ٹکڑے ہوا میں اچھالے جائیں تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ ڈھلے ہوئے حروف کی شکل میں زمین پر گریں اور گرتے ہی ایک با معنی عبارت کی شکل میں کاغذ کے صفحے پر اکٹھا ہو جائیں۔ اگر ایسا محض اتفاق سے نہیں ہو سکتا تو یہ کیوں فرض کر لیا گیا ہے کہ اتنی بڑی دنیا اتنی حیرت انگیز خصوصیات کے ساتھ محض اتفاق سے وجود میں آ گئی ہے۔ ایک نظریہ جس کو کسی تجربہ گاہ میں ثابت نہیں کیا جا سکتا اس کو علمی طور پر منوانے کی کیا دلیل ہے۔ دوسری توجیہ جس پر اتھیسٹ (atheist) انحصار کرتے ہیں، وہ قانونِ قدرت (nature) ہے ۔ "مرغی کے انڈوں سے بچے کیوں 21 روز میں نکلتے ہیں، اور شتر مرغ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page