کائنات بول رہی ہے
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
انڈوں سے 45 روز میں“۔ اس طرح کے بے شمار سوالات ہیں، جن کا جواب منکرِ خدا (atheist) کے نزدیک یہ ہے کہ یہ ایک قانونِ فطرت ہے۔ بظاہر یہ ایک توجیہ ہے، مگر درحقیقت یہ جواب صرف ایک واقعے کو بیان کرتا ہے۔ قانونِ فطرت کا لفظ بول کر ہم صرف کائنات کے نظم اور اس کی کارکردگی کا اعتراف کرتے ہیں۔ یہ لفظ اس کی توجیہ نہیں کرتا کہ یہ نظم اور کارکردگی کیوں قائم ہے۔ یہ لفظ صرف یہ بتاتا ہے کہ چیزیں ہمیشہ ایک متعین اصول کے تحت وجود میں آتی ہیں، اور ہمیشہ اسی طرح وجود میں آئیں گی۔ اس سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کیوں ہو رہا ہے۔ وہ واقعے کا سبب نہیں بتاتا بلکہ صرف واقعے کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اگر آپ کسی ڈاکٹر سے پوچھیں کہ خون سرخ کیوں ہوتا ہے تو وہ جواب دے گا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ خون میں نہایت چھوٹے چھوٹے سرخ اجزاء ہوتے ہیں (ایک انچ کے سات ہزارویں حصے کے برابر) جن کو سرخ ذرات کہا جاتا ہے۔ ”درست، مگر یہ ذرات سرخ کیوں ہوتے ہیں؟“ ”ان ذرات میں ایک خاص مادہ ہوتا ہے جس کا نام ہیموگلوبن (haemoglobin) ہے، یہ مادہ جب پھیپھڑے میں آکسیجن جذب کرتا ہے تو سرخ ہو جاتا ہے۔“ ”ٹھیک ہے، مگر ہیموگلوبن کے حامل سرخ ذرات آخر کہاں سے آئے“۔ ”وہ آپ کی تلی (spleen) میں بن کر تیار ہوتے ہیں۔“ ڈاکٹر صاحب! جو کچھ آپ نے فرمایا، وہ بہت عجیب ہے، مگر مجھے بتائیے کہ ایسا کیوں ہے کہ خون، سرخ ذرات، تلی اور دوسری ہزاروں چیزیں اس طرح ایک گل کے اندر باہم مربوط ہیں، وہ اس قدر صحت کے ساتھ یک جا ہو کر کیسے عمل کرتی ہیں کہ میں سانس لیتا ہوں، میں دوڑتا ہوں، میں بولتا ہوں، میں زندہ ہوں“۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader