انسان کا وجود، خدا کے وجود کا ثبوت
Urdu book, p. 155
By Maulana Wahiduddin Khan
لیے ناقابل فہم ہے، یعنی ایک ایسی چیز کو ماننا جس کا کوئی مادی وجود نہ ہو۔ لیکن ہر انسان سوچنے والی مخلوق ہے۔ خود اپنے تجربے کی بنیاد پر ہر آدمی سوچ کے وجود کو مانتا ہے۔ حالاں کہ سوچ مکمل طور پر ایک مجرد تصور ہے، یعنی ایک ایسی چیز جس کا کوئی مادی وجود نہیں۔ اب اگر انسان ایک قسم کے مجرد تصور کے وجود کو مانتا ہے تو اُس پر لازم آجاتا ہے کہ وہ دوسری قسم کے مجرد تصور کے وجود کو بھی تسلیم کرے۔ یہ بلاشبہ خدا کے وجود کا ایک ایسا ثبوت ہے، جس کا تجربہ ہر آدمی کرتا ہے، اور جس کی صحت کو ہر آدمی بلا اختلاف مانتا ہے۔ اگر سوچ کے وجود کا انکار کر دیا جائے تو اس کے بعد یقینی طور پر انسان کے وجود کا اور خود اپنے وجود کا انکار کرنا پڑے گا۔ کوئی بھی آدمی اپنے وجود کا انکار نہیں کر سکتا، اس لیے کسی بھی آدمی کے لیے منطقی طور پر یہ ممکن نہیں کہ وہ خدا کے وجود کا انکار کرے۔ خدا کا غیر مرئی (invisible) ہونا، اِس بات کے لیے کافی نہیں کہ خدا کے وجود کا انکار کر دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ غیر مرئی ہونے کی بنا پر خدا کے وجود کا انکار کرنا، ماڈرن سائنس کے زمانے میں ایک خلاف زمانہ استدلال (anachronistic argument) ہے۔ اس لیے کہ آئن سٹائن (وفات (1955) کے زمانے میں جب ایٹم ٹوٹ گیا، اور علم کا دریا عالم صغیر (microworld) تک پہنچ گیا تو اس کے بعد معلوم ہوا کہ یہاں ہر چیز غیر مرئی ہے۔ پہلے جو چیزیں مرئی (visible) سمجھی جاتی تھیں، اب وہ سب کی سب غیر مرئی (invisible) ہوگئیں۔ ایسی حالت میں عدمِ رویت کی بنیاد پر خدا کے وجود کا انکار کرنا، ایک غیر علمی موقف بن چکا ہے۔ اس موضوع کی تفصیل کے لیے حسب ذیل دو کتابوں کا مطالعہ کافی ہے: Science and the Unseen World, by Sir Arthur Eddington Human Knowledge, by A. W. Bertrand Russel

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader