خلائی مشاہدہ
Urdu book, p. 156
By Maulana Wahiduddin Khan
خلائی مشاہدہ موجودہ زمانے میں جو نئی چیزیں وجود میں آئی ہیں، اُن میں سے ایک چیز وہ ہے جس کو خلائی سفر کہا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ راکٹ کے ذریعے خلا میں گئے، اور وہاں سے مخصوص دور بینوں کے ذریعے انھوں نے زمین کا مطالعہ کیا۔ ان لوگوں نے اپنے خلائی مشاہدے کی بنیاد پر بہت سی نئی باتیں بتائی ہیں۔ اُن میں سے ایک بات یہ ہے کہ ایک خلا باز نے کہا کہ خلائی سفر کے دوران انھوں نے یہ تجربہ کیا کہ وسیع خلا میں کہیں بھی زمین جیسا کوئی کرہ موجود نہیں۔ زمین پر لائف ہے، اور اُسی کے ساتھ اعلیٰ پیمانے پر لائف سپورٹ سسٹم (life-support system) بھی۔ یہ دونوں چیزیں زمین پر انتہائی موزوں اور متناسب انداز میں پائی جاتی ہیں۔ ایک خلا باز نے زمین کے بارے میں اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا۔ صحیح قسم کا سامان صحیح جگہ پر: Right type of material at the right place. زمین کی یہ انوکھی صفت ہے کہ یہاں زندگی پائی جاتی ہے، یہاں چلتا پھرتا انسان موجود ہے، مگر اس قسم کی زندگی کی موجودگی کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کے لیے دوسرے ان گنت اسباب درکار ہیں۔ ان اسباب کے بغیر زندگی کا وجود اور بقا ممکن نہیں۔ زمین، اس اعتبار سے وسیع کائنات میں ایک انوکھا استثناء ہے۔ یہاں استثنائی طور پر انسان موجود ہے اور اسی کے ساتھ یہاں اس کے وجود اور بقا کے لیے انتہائی متناسب انداز میں تمام سامانِ حیات موجود ہے۔ وسیع کائنات میں یہ با معنی استثنا بلا شبہ ارادی عمل اور منصوبہ بند تخلیق کا ثبوت ہے، اور جہاں ارادی عمل اور منصوبہ بند تخلیق کا ثبوت موجود ہو، وہاں ایک صاحبِ ارادہ اور ایک صاحبِ تخلیق ہستی کا وجود اپنے آپ ثابت ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader