خدا کی دریافت
Urdu book, p. 159
By Maulana Wahiduddin Khan
میڈیکل سائنس میں یہ مستقل نظریہ ہے کہ کئی بیماریاں أجداد سے نسلی طور پر منتقل ہوتی ہیں۔ ایسی بیماریوں کو اجدادی بیماری(atavistic disease) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح مختلف قسم کی وبائیں پھیلتی ہیں، جس میں ہزاروں لوگ مر جاتے ہیں، یا خرابی صحت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی خود طبی تحقیق کے مطابق ، انسان کی اپنی پیدا کردہ ہوتی ہیں۔ دہلی میں معروف شخصیت ڈاکٹر آرن شوری (پیدائش 1941) کے صاحب زادے مفلوج ہو کر وہیل چیئر پر رہتے ہیں۔ اس ’’ سفرنگ ‘‘ کا سبب بھی یہ ہے کہ چھوٹی عمر میں امریکہ کے ایک اسپتال میں اُن کو غلط انجکشن لگ گیا، اِس بنا پر وہ جسمانی اعتبار سے مفلوج ہو گئے۔ اسی طرح تشدد اور جنگوں کے نتیجے میں بے شمار لوگ مر جاتے ہیں یا نا کارہ ہو جاتے ہیں، یہ سب بھی انسانی کارروائیوں کی بنا پر ہوتا ہے، وغیرہ۔ واقعہ یہ ہے کہ انسانی سفرنگ کو نیچر سے منسوب کرنا، سرتا سرا یک غیر علمی بات ہے۔ سائنس کی تمام شاخوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ نیچر مکمل طور پر خرابیوں سے پاک ہے۔ نیچر اس حد تک محکم ہے کہ اس کی کارکردگی کے بارے میں پیشگی طور پر اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر نیچر کے اندر قابل پیشین گوئی کردار نہ ہو تو سائنس کی تمام سرگرمیاں اچانک ختم ہو جائیں گی۔ تقابلی مطالعہ پرابلم آف اول کے اس معاملے کا علمی مطالعہ کرنے کا پہلا اصول وہ ہے، جس کو تقابلی طور پر سمجھنا(it is in comparison that we understand) کہا جاتا ہے۔ تقابلی مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ محدود طور پر صرف انسانی دنیا کا مسئلہ ہے، جب کہ انسان پوری کائنات کے مقابلے میں ایک بہت ہی چھوٹے جُز کی حیثیت رکھتا ہے۔ بقیہ کائنات اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ مکمل طور پر ایک بے نقص کائنات (zero-defect

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader