خدا کی دریافت
Urdu book, p. 158
By Maulana Wahiduddin Khan
اعتراض صرف ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہے، وہ یہ کہ انسانی زندگی میں جو سفرنگ ہے، وہ تمام ترین میڈ (man-made) ہے، مگر اس کو غلط طور پر گاڈ میڈ(God-made) سمجھ لیا گیا ہے۔ انسانی زندگی میں سفرنگ کے حوالے سے جو کچھ کہا جاتا ہے، وہ اسی غلط انتساب کا نتیجہ ہے۔ اس غلط فہمی کا اصل سبب یہ ہے کہ لوگ جب کسی انسان کی زندگی میں سفرنگ (suffering) کے واقعے کو دیکھتے ہیں تو وہ اُسی مبتلا انسان کے حوالے سے اُس کی توجیہ کرنا چاہتے ہیں۔ چوں کہ اکثر مثالوں میں خود اِسی مبتلا انسان کے اندر اس کی توجیہ نہیں ملتی ، اس لیے اس سفرنگ کو لے کر وہ یہ کہنے لگتے ہیں کہ یا تو اس دنیا کا کوئی خدا نہیں، یا اگر خدا ہے تو وہ ظالم اور غیر منصف خدا ہے، مگر یہ انتساب بجائے خود غلط ہے۔ انسان کی زندگی میں جو سفرنگ پیش آتی ہے، اس کا سبب کبھی انسان خود ہوتا ہے اور کبھی اس کے والدین ہوتے ہیں اور کبھی اس کا سبب وہ سماج ہوتا ہے جس میں وہ رہ رہا ہے اور کبھی وسیع تر معنوں میں اجتماعی نظام اُس کا ذے دار ہوتا ہے۔ اِسی کے ساتھ کبھی کوئی سفرنگ فوری سبب سے پیش آتی ہے اور کبھی اس کے اسباب پیچھے کئی پشتوں تک پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ غلط ریفرنس میں مطالعہ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ شبے کا سبب، اصل صورتِ حال کا غلط ریفرنس میں مطالعہ ہے، یعنی جس ظاہرے (phenomenon) کو انسان کی نسبت سے دیکھنا چاہیے، اُس کو خدا کی نسبت سے دیکھنا۔ حالاں کہ یہ سائنسی حقائق کے سرتا سر خلاف ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانے میں ایڈز (AIDS) کا مسئلہ ایک خطرناک مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر خود طبی تحقیق کے مطابق ، یہ انسانی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader