Urdu book · خدا کی دریافت

خدا کی دریافت

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر یہ بات صرف ایک فلسفی کی بات نہیں۔ بلکہ تمام فلسفیوں کا معاملہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہی ہے۔ حقیقتِ اعلیٰ (supreme reality) ہر فلسفی کی تلاش کا موضوع رہا ہے، لیکن کوئی فلسفی اپنی تلاش کا جواب نہ پا سکا۔ صحیح طریقہ کار اس ناکامی کا راز یہ ہے کہ فلسفیوں کو اپنی تلاش کے لیے صحیح میتھڈالوجی کی دریافت نہ ہوسکی۔ قرآن میں صحیح طریقہ کار (methodology) کی نشاندہی کی گئی تھی۔ لیکن اس میتھڈالوجی کو انسان صرف اس وقت دریافت کرسکا، جب کہ اٹلی کے سائنس داں گلیلیوگلیلی (1642-1564) نے دوربین (telescope) کو فلکیاتی مطالعے کے لیے استعمال کیا۔ گلیلیو گلیلی کو ماڈرن سائنس کا موجد (father of modern science) سمجھا جاتا ہے۔ جدید سائنس کا آغاز اس وقت ہوا جب انسان نے 1608ء میں ابتدائی طور پر دوربین ایجاد کی۔ گلیلیو نے 1609ء میں دوربین کو مزید ڈیولپ کیا، اور پہلی بار دوربین کے ذریعے شمسی نظام (solar system) کا مطالعہ کیا۔ اس معاملے کا آغاز حقیقتاً ساڑھے تین ہزار سال پہلے پیغمبر موسیٰ کے تجربے سے ہوا۔ یہ قصہ قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَمَّا جَاءَ مُوْسَى لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِيْ أَنْظُرْ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرَانِيْ وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِيْ فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوْسَى صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ (7:143)۔ یعنی اور جب موسیٰ ہمارے وقت پر آگیا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے کہا، مجھے اپنے کو دکھادے کہ میں تجھ کو دیکھوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page