Urdu book · خدا کی دریافت

خدا کی دریافت

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

فرمایا تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ البتہ پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہے تو تم مجھ کو دیکھ سکو گے۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو اس کو ریزہ ریزہ کر دیا، اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ پھر جب ہوش آیا تو بولا، تو پاک ہے، میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔ قرآن کی اس آیت پر غور کیجیے۔ اس میں یہ الفاظ آئے ہیں: لَنْ تَرَانِي (تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے) ، اور آیت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ (میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں)۔ ان دونوں الفاظ کے فرق پر غور کیجیے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان براہ راست اللہ کو نہیں دیکھ سکتا۔ البتہ وہ بالواسطہ طور پر اللہ کی معرفت حاصل کر سکتا ہے۔ گلیوگلیلی راقم الحروف کا خیال ہے کہ اس بالواسطہ طریقہ کار کا آغاز گلیلیو کے زمانے میں ہوا، جب کہ گلیلیو نے دوربین کا استعمال کیا۔ یعنی دوربین کے ذریعے پہلی بار وہ سائنسی طریق کار شروع ہوا، جو حقیقتِ اعلیٰ کی معرفت کے لیے ضروری ہے۔ چنانچہ کوانٹم فزکس (quantum physics) کے زمانے میں یہ ثابت ہوا کہ مادہ (matter) کا آخری جزء سب ایٹمک پارٹیکل (subatomic particle) ہے، اور سب ایٹمک پارٹیکل براہ راست طور پر قابلِ مشاہدہ نہیں۔ یہ سب ایٹمک پارٹیکل مسلسل طور پر حرکت کی حالت میں رہتا ہے۔ اس حرکت کے دوران اس سے ہیٹ جزیٹ ( heat generate) ہوتا ہے۔ یہ ہیٹ (heat) بالواسطہ طور پر قابلِ دریافت ہے۔ اس طرح مادہ کا آخری جزء قابلِ دریافت بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ خالقِ کائنات کا ہے۔ خالقِ کائنات بلاشبہ اپنا حقیقی وجود رکھتا ہے۔ لیکن انسان کی نسبت سے وہ صرف بالواسطہ طور پر قابلِ دریافت ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page