خدا اور سائنس
Urdu book, p. 171
By Maulana Wahiduddin Khan
with things outside the human sphere and that we had to admire in humility the beautiful harmony of the structure of this world as far as we could grasp it. But Raner persisted."Are you from the viewpoint of the dictionary," he wrote back, "an atheist, one who disbelieves in the existence of a God, or a Supreme Being." To this Einstein replied: "You may call me an agnostic, but I do not share the crusading spirit of the professional atheist whose fervour is mostly due to a painful act of liberation from the fetters of religious indoctrination received in youth." (The Times of India, New Delhi, May 18, 2012) عقیدۂ خدا کے بارے میں آئن سٹائن کا جو موقف ہے، وہی موقف تقریباً سائنص دانوں کا ہے۔ خدا سائنسی مطالعہ (scientific study) کا موضوع نہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ سائنص داں خدا کا انکار نہیں کرتے، وہ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ لا ادریہ (agnostic) بتاتے ہیں، یعنی ایک ایسا موقف جب کہ انسان نہ انکار کرنے کی پوزیشن میں ہو، اور نہ اقرار کرنے کی پوزیشن میں۔ یہ صحیح ہے کہ سائنس کے مطالعے کا موضوع مادی دنیا (material world) ہے۔ مگر مادی دنیا کیا ہے، وہ خالق کی تخلیق (creation) ہے۔ اس لیے سائنس کا مطالعہ بالواسطہ طور پر خالق کی تخلیق کا مطالعہ بن جاتا ہے۔ ایک سائنس داں خالق کے عقیدے کا انکار کر سکتا ہے۔ لیکن تخلیقات میں خالق کی جونشانیاں (signs) موجود ہیں، اُن کا انکار ممکن نہیں۔ اصل یہ ہے کہ سائنس نے جس مادی دنیا (physical world) کو دریافت کیا ہے، اس میں حیرت انگیز طور پر ایسی حقیقتیں پائی جاتی ہیں، جو اپنی نوعیت میں غیر مادی ہیں۔ مثلاً معنویت، ڈیزائن، ذہانت اور مقصد پلاننگ، وغیرہ۔ مادی دنیا کی نوعیت کے بارے میں یہ دریافت گویا خالق کے وجود کی بالواسطہ شہادت ہے۔ خدا کے وجود کے بارے میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader