خدا کی دریافت
Urdu book, p. 172
By Maulana Wahiduddin Khan
رائے قائم کرنے کے لیے ایک سائنسی طریقہ یہاں قابل انطباق (applicable) ہے، وہ یہ کہ یہ دیکھا جائے کہ سائنس کی دریافت کردہ دنیا کس نظریے کی تصدیق کر رہی ہے، انکارِ خدا کے نظریے کی تصدیق یا اقرارِ خدا کے نظریے کی۔ اس اصولِ استدلال کو سائنس میں ویری فلیشن ازم (verificationism) کہا جاتا ہے۔ سائنس میں استدلال کا ایک اصول ہے، جس کو اصولِ مطابقت (principle of compatibility) کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک نظریہ جو بذاتِ خود قابلِ مشاہدہ نہ ہو، لیکن وہ مشاہدہ کے ذریعے دریافت کردہ معلومات سے مطابقت رکھتا ہو، تو اس بالواسطہ شہادت کی بنا پر اس نظریے کو حقیقت کا درجہ دے دیا جائے گا۔ جس نظریے کے حق میں اس قسم کی مطابقت موجود ہو، اس کو بالواسطہ تصدیق کی بنا پر بطورِ حقیقت تسلیم کر لیا جائے گا۔ سائنس کے اس اصولِ استدلال کو اگر عقیدۂ خدا کے معاملے میں منطبق کیا جائے تو اصولی طور پر خدا کا عقیدہ ایک ثابت شدہ عقیدہ بن جاتا ہے۔ جو سائنس داں اپنے کیس کو لاادریہ (agnosticism) کا کیس بتاتے ہیں، وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر فرار کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ خود اپنے علم کے مطابق ، خدا کا انکار نہیں کر سکتے، وہ کہہ دیتے ہیں کہ ان کا کیس لاادریہ (agnostic) کا کیس ہے۔ عقیدۂ خدا اور سائنس خالص سائنسی نقطۂ نظر کے مطابق، خدا کے وجود کا کوئی ثبوت نہیں۔ سائنس نے اپنے طریقِ مطالعہ کے ذریعے جس چیز کو دریافت کیا ہے، وہ ہے الیکٹران (electron) اور نیوٹران (neutron) اور پروٹان (proton)۔ مگر اسی کے ساتھ یہ واقعہ ہے کہ اب تک کسی سائنس داں نے الیکٹرانس اور نیوٹرانس اور پروٹانس کو نہیں دیکھا ہے، نہ آنکھ سے اور نہ خوردبین سے، پھر سائنس داں اُن کے وجود پر یقین کیوں رکھتے ہیں۔ سائنس داں کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader