عقیدہ خدا اور سائنس
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
(actor) کو نہیں بتاتا تھا۔ اس کے مقابلے میں، قرآن کا ئنات کا جو ماڈل دے رہا ہے، اس میں فعل اور فاعل دونوں موجود ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن میں سبب (cause) کے ساتھ مُسَبِّب (causative factor) کو بھی بتایا گیا ہے۔ سائنس جب فعل (ذہانت) کی تصدیق کر رہی ہے تو منطقی طور پر اس کا جواز نہیں کہ وہ فاعل (ذہن) کی تصدیق نہ کرے ۔ خدا کا وجود البرٹ آئن اسٹائن (Albert Einstein) اگر چہ ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوا تھا، لیکن سائنسی مطالعے کے بعد وہ خدا کے وجود کے بارے میں تشکیک میں مبتلا ہو گیا۔ اپنی وفات سے ایک سال پہلے 3 جنوری 1954 کو اس نے ایک اسرائیلی فلسفی ایرک (Eric B. Gutkind) کو جرمن زبان میں ایک خط لکھا۔ اس خط کا ایک جملہ یہ تھا— خدا کا لفظ اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ وہ صرف انسانی کمزوریوں کی ایک پیداوار ہے: The word God was nothing more than the expression and product of human weaknesses. آئن اسٹائن نے جس چیز کو "انسانی کمزوری" بتایا ہے، وہ کمزوری نہیں ہے، بلکہ وہ انسان کی ایک اعلیٰ خصوصیت ہے۔ اس خصوصیت کو درست طور پر ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان ایک توجیہ طلب حیوان (explanation-seeking animal) ہے۔ انسان کی یہی خصوصیت تمام علمی ترقیوں کی بنیاد ہے۔ اسی خصوصیت کی بنا پر انسان چیزوں کی توجیہ تلاش کرتا ہے، اور پھر وہ بڑی بڑی ترقیوں تک پہنچتا ہے۔ انسان کے اندر اگر یہ خصوصیت نہ ہوتی تو انسانی تہذیب (human civilization) پوری کی پوری غیر دریافت شدہ حالت میں پڑی رہتی۔ خود آئن اسٹائن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اپنی عمر کے آخری 30 سال کے دوران

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader