عقیدہ خدا اور سائنس
Urdu book, p. 173
By Maulana Wahiduddin Khan
پاس اس کا جواب یہ ہے کہ اگر چہ ہم اُن کو براہِ راست نہیں دیکھتے، لیکن ہم اُن کے اثرات (effects) کو دیکھ رہے ہیں: Though we cannot see them, we can see their effects. مزید مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف کا ز اینڈ ایفیکٹ (cause and effect) کا مسئلہ نہیں ہے۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خود سائنس کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ کائنات میں اعلیٰ درجے کی ذہانت (intelligence) ہے۔ کائنات میں اعلیٰ درجے کی ہم آہنگی (harmony) ہے۔ کائنات میں اعلیٰ درجے کی منصوبہ بندی (planning) ہے۔ اس بات کو ٹاپ کے سائنس دانوں نے تسلیم کیا ہے۔ مثلاً جیمس جینز (James Hopwood Jeans, 1877-1946)، آرتھر ایڈنگٹن (Arthur Stanley Eddington, 1882-1944)، البرٹ آئن سٹائن (Albert Einstein, 1879-1955)، ڈیوڈ فوسٹر (David Foster) اور فریڈ ہائل (Fred Hoyle, 1915-2001)، وغیرہ۔ اب یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ، ایک سائنس داں کے الفاظ میں، کائنات کی جنس، ذہن (mind-stuff) ہے: “Molecular biology has conclusively proved that the matter of organic life, our very flesh, really is mind-stuff.” عقیدہ خدا اور سائنس کے معاملے میں یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ مذہب میں جس خدا کو بطور عقیدہ پیش کیا گیا تھا، وہ اگر چہ سائنس کا براہِ راست موضوع نہیں، لیکن سائنس کی دریافتیں بالواسطہ طور پر عقیدہ خدا کی علمی تصدیق (affirmation) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سائنس نے خدا کے عقیدے کو ثابت نہیں کیا ہے، البتہ یہ کہنا درست ہے کہ سائنس نے عقیدہ خدا کے ثبوت کا ڈیٹا فراہم کر دیا ہے۔ سائنس کے اسٹینڈرڈ ماڈل میں ایک چیز مسنگ لنک (missing link) کی حیثیت رکھتی تھی۔ یہ ماڈل فعل (action) کو بتاتا تھا، مگر وہ فاعل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader