Urdu book · خدا کی دریافت

زیادہ عجیب، کمتر عجیب

Urdu book, p. 179

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کو ماننا عجیب ہے۔ مگر خدا کو نہ ماننا اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ خدا کو مان کر ہم صرف زیادہ عجیب کے مقابلے میں کم عجیب کو اختیار کرتے ہیں۔ یہ صرف خدا کے وجود کا معاملہ نہیں۔ خالص سائنسی نقطہ نظر سے، اس دنیا میں کوئی بھی چیز نہ ثابت (prove) کی جاسکتی، اور نہ غیر ثابت (disprove) کی جاسکتی۔ کسی بھی چیز کو ماننے کے معاملے میں یہاں انتخاب (option) ثابت شدہ (proved) اور غیر ثابت شدہ (unproved) کے درمیان نہیں ۔ بلکہ ہر انتخاب ورک ایبل (workable) اور نان ورک ایبل (non-workable) کے درمیان ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اہل سائنس عام طور پر کشش (gravity) کے نظریے کو مانتے ہیں۔ مگر یہ ماننا اس لیے نہیں کہ کشش ثقل کوئی ثابت شدہ نظریہ ہے۔ نیوٹن نے سیب کو درخت سے گرتے ہوئے دیکھ کر یہ سوال کیا تھا کہ سیب نیچے کیوں آیا، اور پھر تحقیق کرکے اس نے کشش ارض کا نظریہ دریافت کیا۔ مگر ایک سائنس داں نے کہا کہ نیوٹن کو اس پر تعجب ہوا تھا کہ سیب نیچے کیوں آیا۔ مجھے یہ تعجب ہے کہ سیب اوپر کیسے گیا۔ درخت کی جڑ نیچے کی طرف جاتی ہے، اور اس کا تانہ اوپر کی طرف۔ اگر جڑ کے نیچے جانے کا سبب یہ بتایا جائے کہ زمین میں کشش ہے تو تنہ اور شاخوں کے اوپر جانے کی توجیہ کس طرح کی جائے گی۔ یہی معاملہ تمام سائنسی نظریات کا ہے۔ سائنس میں جب بھی کسی نظریے (theory) کو مانا جاتا ہے تو وہ غیر ثابت شدہ کے مقابلے میں ثابت شدہ کو ماننا نہیں ہوتا۔ بلکہ نان ورک ایبل تھیری (non-workable theory) کے مقابلے میں ورک ایبل تھیری (workable theory) کو ماننا ہوتا ہے۔ ٹھیک یہی اصول نظریہ خدا کے معاملے میں بھی چسپاں ہوتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page