تاریخ کے فکری مغالطے
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخ کے فکری مغالطے فلسفہ قیاسی علوم (speculative sciences) میں سے ایک علم ہے۔ فلسفہ قدیم ترین شعبہ علم ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے دماغ فلسفیانہ غور وفکر میں مشغول رہے ہیں۔ لیکن لمبی تاریخ کے باوجود فلاسفہ کا گروہ انسان کو کوئی مثبت چیز نہ دے سکا، بلکہ فلسفے نے صرف انسان کی فکری پیچیدگیوں میں اضافہ کیا۔ فارسی شاعر نے بالکل درست طور پر کہا ہے: فلسفی سر حقیقت نہ توانست کشود گشت راز دیگر آن را که افشامی کرد فلسفہ نے انسان کو جو چیزیں دیں، ان کو ایک لفظ میں فکری مغالطہ کہا جاسکتا ہے، یعنی ایسے قیاسات جو حقیقت واقعہ پر مبنی نہ ہوں۔ افکار کی تاریخ ان مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ تمام فلسفیوں کی مشترک غلطی یہ رہی ہے کہ ہر ایک کے ذہن میں چیزوں کا ایک معیاری ماڈل (ideal model) بسا ہوا تھا، جو کبھی اور کسی دور میں حاصل نہ ہوسکا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ فلسفیوں کا یہ ماڈل دنیا کے بارے میں خالق کے تخلیقی نقشے سے مطابقت نہ رکھتا تھا۔ خالق نے موجودہ دنیا کو امتحان کے لیے پیدا کیا ہے، نہ کہ انعام کے لیے۔ اسی امتحان کے لیے انسان کو آزادی دی گئی ہے۔ یہ امتحانی آزادی اس راہ میں رکاوٹ ہے کہ اس دنیا میں کبھی کوئی معیاری نظام بن سکے۔ معیاری نظام صرف اس وقت بن سکتا ہے جب کہ تمام لوگ بغیر استثنا اپنی آزادی کو بالکل صحیح صورت میں استعمال کریں، تاہم مختلف اسباب سے ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔ اس لیے اس دنیا میں معیاری نظام کا بننا بھی کبھی ممکن نہیں۔ تاریخ کے تمام فلسفی اس حقیقت سے بے خبر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام فلسفی اپنے ذہنی ماڈل کے مطابق، معیاری نظام کا خواب دیکھتے رہے۔ مگر فطرت کے قانون کے مطابق، ان کا یہ خواب کبھی پورا نہ ہوسکا۔ یہاں بطور نمونہ چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader