استدلال کی بنیاد
Urdu book, p. 187
By Maulana Wahiduddin Khan
استدلال کی بنیاد انیسویں صدی عیسوی میں جب سائنسی مشاہدے کا طریقہ دنیا میں رائج ہوا تو فلسفیوں کے اندر ایک نیا فکر پیدا ہوا جس کا یہ کہنا تھا کہ حقیقت وہی ہے جو قابلِ مشاہدہ (observable) ہو، جو معلوم سائنسی طریقوں کے مطابق قابلِ تصدیق (verifiable) ہو۔ اسی سوچ کے تحت مختلف اسکول آف تھاٹ بنے۔ مثلاً انیسویں صدی کا فرینچ فلسفی آگسٹ کامٹے (Auguste Comte) کا پازیٹیوازم (Positivism) اور بیسویں صدی کے جرمن فلاسفر رُڈولف کارنیپ (Rudolf Carnap) کا لاجیکل پازیٹیوازم، وغیرہ۔ اس قسم کے مفکروں اور فلسفیوں نے تقریباً سو سال تک دنیا بھر کے ذہنوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ جو چیز مشاہدے میں نہ آئے وہ حقیقت بھی نہیں۔ ان نظریات کے تحت وہ فلسفہ پیدا ہوا جس کو سائنسی الحاد (scientific atheism) کہا جاتا ہے۔ ان نظریات کے مطابق، خدا اور مذہب کا عقیدہ علمی اعتبار سے بے بنیاد ثابت ہو گیا۔ علمی حلقوں میں سائنسی الحاد پر چرچا جاری تھا کہ خود سائنس نے اس نظریے کو بے بنیاد ثابت کر دیا۔ سائنس میں یہ تبدیلی اس وقت آئی جب کہ سائنس دانوں نے اس حقیقت کو دریافت کیا، جس کو کوانٹم میکنکس (quantum mechanics) کہا جاتا ہے۔ اس سائنسی نظریے کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ ایٹمی ذرات کو امواج (waves) سمجھا جانے لگا۔ اس سائنسی دریافت میں خاص طور پر حسبِ ذیل سائنس دانوں کے نام شامل ہیں: Erwin Schrödinger (1887-1961) Albert Einstein (1879-1955) Werner Heisenberg (1901-1976) Pascual Jordan (1902-1980) Paul Dirac (1902-1084)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader