کائنات میں خدا کی گواہی
Urdu book, p. 197
By Maulana Wahiduddin Khan
کائنات میں خدا کی گواہی زمین پر زندگی کے وجود کے لیے مختلف پیچیدہ حالات کی موجودگی ضروری ہے۔ یہ زمینی ظاہر ہ ریاضیاتی طور پر ان مختلف پیچیدہ حالات کے اتفاقی وقوع کو نا قابل قبول بناتا ہے، یعنی یہ ناممکن ہے کہ ایسے پیچیدہ حالات اپنے مخصوص تناسب کے ساتھ محض اتفاقاً زمین کے اوپر اکٹھا ہو جائیں۔ اب اگر ایسے حالات پائے جاتے ہیں تو لازماً یہ ماننا ہوگا کہ فطرت میں کوئی ذی شعور رہنمائی موجود ہے، جو ان حالات کو پیدا کرنے کا سبب ہے۔ زمین اپنی جسامت کے اعتبار سے کائنات میں ایک ذرے کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتی، مگر اس کے باوجود ہماری تمام معلوم دنیاؤں میں اہم ترین ہے۔ کیونکہ اس کے اوپر حیرت انگیز طور پر وہ حالات مہیا ہیں، جو ہمارے علم کے مطابق اس وسیع کائنات میں کہیں نہیں پائے جاتے۔ سب سے پہلے زمین کی جسامت کو لیجیے۔ اگر اس کا حجم کم یا زیادہ ہوتا تو اس پر زندگی محال ہو جاتی۔ مثلاً یہ کره زمین اگر چاند جتنا چھوٹا ہوتا یعنی اس کا قطر (diameter) موجودہ قطر کی نسبت سے 4/1 ہوتا تو اس کی کشش ثقل زمین کی موجودہ کشش کا 1/6 رہ جاتی۔ کشش کی اس کمی کا نتیجہ یہ ہو جاتا کہ وہ پانی اور ہوا کو اپنے اوپر روک نہ سکتی، جیسا کہ جسامت کی اسی کمی کی وجہ سے چاند میں واقع ہوا ہے۔ چاند پر اس وقت نہ تو پانی ہے، اور نہ کوئی ہوائی کاره۔ ہوا کا غلاف نہ ہونے کی وجہ سے وہ رات کے وقت بے حد سرد ہو جاتا ہے، اور دن کے وقت تنور کی مانند جلنے لگتا ہے۔ اسی طرح کم جسامت کی زمین کشش کی کمی کی وجہ سے پانی کی اس کثیر مقدار کو روک نہ سکتی، جو زمین پر موسمی اعتدال کو باقی رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader