کائنات میں خدا کی گواہی
Urdu book, p. 198
By Maulana Wahiduddin Khan
زمین کی اِسی خصوصیت کی بنا پر ایک سائنسداں نے اس کو عظیم توازن پیہ (great balance wheel) کا نام دیا ہے۔ Man Does not Stand Alone, p. 28 اِسی طرح اگر یہ ہوتا کہ ہوا کا موجودہ غلاف اُڑ کر فضا میں گم ہو جاتا تو زمین کی حالت یہ ہوتی کہ اس کی سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا تو انتہائی حد تک بڑھ جاتا، اور گرتا تو انتہائی حد تک گر جاتا۔ اس کے برعکس اگر زمین کا قطر، موجودہ قطر کی نسبت سے دگنا ہوتا تو اس کی کششِ ثقل بھی دگنی بڑھ جاتی۔ کشش کے اس اضافے کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ہوا، جو اس وقت زمین کے اوپر پانچ سومیل کی بلندی تک پائی جاتی ہے، وہ کھینچ کر بہت نیچے تک سمٹ جاتی۔ اس کے دباؤ میں فی مربع انچ 15 تا 30 پونڈ کا اضافہ ہو جاتا، جس کارِ عمل مختلف صورتوں میں زندگی کے لیے نہایت مہلک ثابت ہوتا، اور اگر زمین سورج سے اتنی بڑی ہوتی، اور اس کی کثافت برقرار رہتی تو اس کی کششِ ثقل ڈیڑھ سوگنا بڑھ جاتی۔ زمین کے گرد گیسوں کا ایک غلاف (Atmosphere) ہے۔ اس کو عام زبان میں ہوا (air) کہا جاتا ہے۔ اس کی وسعت پانچ سومیل کی ہے۔ اگر زمین پر ہوا کے غلاف کی موٹائی گھٹ کر پانچ سومیل کے بجائے صرف چار سومیل رہ جاتی۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ ہوا کا دباؤ ایک ٹن فی مربع انچ تک جا پہنچتا۔ اس غیر معمولی دباؤ کی وجہ سے زمین میں زندہ اجسام کا نشوونما ممکن نہ رہتا۔ ایک پونڈ وزنی جانور کا وزن ایک سو پچاس پونڈ ہو جاتا۔ انسان کا جسم گھٹ کر گلہری کے برابر ہو جاتا، اور اس میں کسی قسم کی ذہنی زندگی ناممکن ہو جاتی۔ کیوں کہ انسانی ذہانت حاصل کرنے کے لیے بہت کثیر مقدار میں اعصابی ریشوں کی موجودگی ضروری ہے، اور اس طرح کے پھیلے ہوئے ریشوں کا نظام ایک خاص درجے کی جسامت ہی میں پایا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader