کویزار ایک ارب سورج سے بھی زیادہ روشن
Urdu book, p. 218
By Maulana Wahiduddin Khan
عقیدہ خدا اور سائنس سائنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے عین اسی علم فطرت کا ظہور ہے، جس کی خبر پیشگی طور پر قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے۔ سنُرِیْھِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِھِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَھُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53) ۔ یعنی ہم لوگوں کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں اور انفس میں۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے۔ سائنس کی جدید تحقیقات کی روشنی میں کائنات کی جو نئی تصویر بنی ہے، وہ عین وہی ہے، جو قرآن میں پیشگی طور پر بتا دی گئی تھی۔ اس اعتبار سے جدید سائنسی دریافتیں گویا کتاب الہیٰ کے اشارات کی تفصیل ہیں، اور اسی کے ساتھ اس کی دلیل بھی۔ یہاں مختصر طور پر ان کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جدید دریافت کے مطابق، کائنات کی ابتدا تقریباً 13.8 بلین سال پہلے ہوئی۔ اس کے بعد مختلف تدریجی انقلابات سے گزرتے ہوئے وہ اپنی موجودہ حالت تک پہنچی۔ اس پورے سفر کی روداد اس موضوع کی کتابوں میں پڑھ کر معلوم کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کو محسوس طور پر کسی سائنسی پلینیٹریم (Planetarium) میں دیکھا جاسکتا ہے۔ میں نے یہ پورا منظر واشنگٹن کے نیشنل پلینیٹریم میں دیکھا ہے۔ سائنسی مطالعہ بتاتا ہے کہ 13.8 بلین سال پہلے خلا میں ایک سپرا ایٹم ظاہر ہوا۔ یہ ان تمام ذرات (particles) کا مجموعہ تھا، جو موجودہ کائنات میں پائے جاتے ہیں۔ گویا موجودہ پوری کائنات ایک بہت بڑے فٹ بال جیسے گولے کی صورت میں شدت کے ساتھ باہمی طور پر چمٹی ہوئی تھی۔ اس گولے کے تمام ذرات بے حد طاقت ور کشش کے ساتھ ایک دوسرے سے داخلی طور پر جڑے ہوئے تھے۔ معلوم طبیعیاتی قانون کے مطابق، یہ ناممکن تھا کہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہو کر بیرونی سمت میں سفر کریں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader