کویزار ایک ارب سورج سے بھی زیادہ روشن
Urdu book, p. 219
By Maulana Wahiduddin Khan
اس وقت اس سپر ایٹم کے اندر نہایت طاقتور دھماکہ ہوا۔ اس دھماکہ کے فوراً بعد سپر ایٹم کے ذرات بکھر کر تیزی سے بیرونی سمت میں سفر کرنے لگے۔ اس کے بعد یہ ذرات وسیع خلا میں مختلف مجموعوں کی صورت میں اکٹھا ہو گئے۔ انھیں مجموعوں سے خلا میں پائی جانے والی وہ دنیا ئیں بنیں، جن کو ستارہ، سیارہ، کہکشاں، شمسی نظام، زمین اور چاند جیسے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ سپر ایٹم کا یہ دھماکہ بیک وقت دو چیزیں ثابت کرتا ہے۔ ایک یہ کہ یہاں کائنات سے الگ ایک طاقتور ہستی پہلے سے موجود تھی، جس نے اپنی ارادی مداخلت کے ذریعے یہ غیر معمولی واقعہ کیا کہ سپر ایٹم کے ذرات داخلی رخ پر سفر کے بجائے بیرونی رُخ پر سفر کرنے لگے۔ اس واقعے کا دوسرا عظیم پہلو یہ ہے کہ دھماکہ (explosion) ہمیشہ تخریبی نتائج کا سبب بنتا ہے۔ پٹاخہ سے لے کر بم تک ہر دھماکہ کہ بلا استثنا یہی خاصیت رکھتا ہے۔ مگر سپر ایٹم کا دھماکہ استثنائی طور پر غیر تخریبی تھا۔ اس نے مکمل طور پر صرف صحت مند اور تعمیری نتائج پیدا کیے ۔ یہ استثنائی واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کائنات کا خالق لامحدود قدرت کا مالک ہے۔ وہ یہ استثنائی اختیار رکھتا ہے کہ واقعے کے ساتھ نتائج پر مکمل کنٹرول کر سکے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ ہماری کائنات ایک پھیلتی ہوئی کائنات (expanding universe) ہے۔ وہ غبارہ کی مانند مسلسل طور پر بیرونی سمت میں پھیل رہی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کائنات کا ایک متعین آغاز ہے۔ اگر کائنات ابدی ہوتی تو وہ اپنی اس پھیلتی ہوئی نوعیت کی بنا پر اب تک ختم ہو چکی ہوتی۔ یہ ثابت ہونا کہ کائنات کا ایک آغاز ہے، یہ بھی ثابت کر دیتا ہے کہ اس کا کوئی آغاز کرنے والا ہے۔ ایک غیر موجودہ چیز کا آغاز اسی وقت ممکن ہے، جب کہ اس سے پہلے کوئی موجود ہو، جو اپنے ارادے سے اُس کا آغاز کر سکے۔ کائنات میں ایسے بے شمار شواہد ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ کائنات کا منصوبہ ساز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader