کویزار ایک ارب سورج سے بھی زیادہ روشن
Urdu book, p. 221
By Maulana Wahiduddin Khan
بڑھ جاتی ہے کہ وہ انسانی جسم کی بڑھوتری کو روک دیتی۔ اس کے بعد زمین پر صرف بالشتیے قسم کے انسان (dwarf) دکھائی دیتے۔ اس کے برعکس اگر زمین کا حجم گھٹ کر 12 ہزار میل ہوتا تو اس کی قوتِ کشش اتنی کم ہو جاتی کہ وہ انسانی بڑھوتری کو روک نہ سکتی۔ انسان کا قد تاڑ (palm) کی طرح لمبا ہو جاتا۔ اس کے سوا اور بے شمار قسم کے غیر موافق حالات پیدا ہوتے جو انسان کی تمام تمدنی ترقیوں کو ناممکن بنا دیتے۔ مذکورہ پہلوؤں پر غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ سائنسی اعتبار سے، یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ اس دنیا کا ایک خالق ہے، اور وہ یقینی طور پر صرف ایک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں ہمارے لیے جو انتخاب ہے، وہ باخدا کائنات (universe with God) اور بے خدا کائنات (universe without God) میں نہیں ہے۔ بلکہ ہمارے لیے حقیقی انتخاب باخدا کائنات (universe with God) اور غیر موجود کا کائنات (no universe at all) میں ہے۔ یعنی اگر ہم خدا کے وجود کا انکار کریں تو ہم کو کائنات کے وجود کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ چوں کہ ہم کائنات کے وجود کا انکار نہیں کر سکتے اس لیے ہم خدا کے وجود کا بھی انکار نہیں کر سکتے۔ اس معاملے میں ہمارے لیے دوسرا ممکن انتخاب موجود نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader