Urdu book · خدا کی دریافت

کویزار ایک ارب سورج سے بھی زیادہ روشن

Urdu book, p. 220

By Maulana Wahiduddin Khan

اور اس کا ناظم صرف ایک ہے۔ اگر ایک سے زیادہ ناظم ہوتے تو یقینی طور پر کائنات میں فساد برپا ہو جاتا۔ مثال کے طور پر زمین اور سورج کا فاصلہ تقریباً 9 کروڑ 30 لاکھ میل ہے۔ یہ فاصلہ مسلسل طور پر اپنی حالت پر برقرار رہتا ہے۔ اگر اس فاصلہ میں تبدیلی آجائے تو اس کے مہلک نتائج پیدا ہوں گے۔ مثلاً اگر یہ فاصلہ بڑھ کر 20 کروڑ میل دور ہو جائے تو زمین پر اتنی ٹھنڈک پیدا ہو کہ پانی، حیاتیات، حیوانات اور انسان سب منجمد ہو جائیں۔ اسی طرح یہ فاصلہ اگر کم ہو کر 5 کروڑ میل ہو جائے تو زمین پر اتنی گرمی پیدا ہو کہ تمام چیزیں بشمول انسان جل کر ختم ہو جائیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سورج اور زمین دونوں کا خدا ایک ہے۔ اگر دونوں کے خدا الگ الگ ہوتے تو دونوں الگ الگ اپنی مرضی چلاتے اور پھر یقینی طور پر یہ فاصلہ گھٹتا یا بڑھتا رہتا اور اس بے قاعدگی کی بنا پر زمین پر انسانی تہذیب کا وجود نا ممکن ہو جاتا۔ نامعلوم حد تک وسیع کائنات میں ہمارا زمینی سیارہ ایک نادر استثنا ہے۔ یہاں پانی اور ہوا اور نباتات جیسی ان گنت چیزیں پائی جاتی ہیں جو انسانی زندگی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہیں۔ جب کہ وسیع خلا میں معلوم طور پر کوئی بھی ایسی دنیا موجود نہیں جہاں بقائے حیات کا یہ سامان پایا جاتا ہو۔ یہ استثنا بتاتا ہے کہ یہ دنیا محض بے شعور مادہ کے ذریعہ نہیں بنی۔ بلکہ وہ ایک باشعور ہستی کا تخلیقی کرشمہ ہے۔ اگر وہ محض مادی قوانین کے بے شعور تعامل کا نتیجہ ہوتی تو کائنات میں بہت سی ایسی زمینیں ہوتیں، نہ کہ صرف ایک ایسی زمین۔ ہماری دنیا کی ہر چیز انتہائی حد تک بامعنی ہے۔ چیزوں کی معنویت یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ دنیا ایک باشعور تخلیق کا نتیجہ ہے۔ کوئی دوسرا نظریہ اس حکمت اور معنویت کی توجیہ نہیں کر سکتا۔ مثلاً زمین کے حجم (size) کو لیجیے۔ زمین کا موجودہ حجم تقریباً 25 ہزار میل کی گولائی میں ہے۔ یہ حجم بے حد بامعنی ہے۔ چنانچہ یہ حجم اگر 50 ہزار میل ہوتا تو زمین کی کشش اتنی زیادہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page