کائناتی وحدت
Urdu book, p. 225
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کی عظمت خدا کی معرفت ایمان اور اسلام کی اساس (basis) ہے۔ جتنی اعلی معرفت، اتناہى اعلیٰ ایمان۔ اس معرفت کی تکمیل اُس وقت ہوتی ہے، جب کہ آپ خدا کو اس کے کمالِ عظمت کے ساتھ دریافت کریں۔ ایک بندہ جب خدا کو اس کی عظمتوں کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اس کا وہی حال ہوتا ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ (8:2)۔ یعنی خدا کی یاد سے ان کے دل دہل اٹھتے ہیں۔ جدید فلکیاتی سائنس (modern astronomy) کا اس معاملے میں ایک مثبت کنٹری بیوشن (contribution) یہ ہے کہ اس نے خالق کی ناقابلِ قیاس عظمت کا ادراک کرنے کے لیے ایک فریم ورک (framework) دے دیا ہے۔ اس فریم ورک کی مدد سے انسان خداوندِ ذوالجلال کی ناقابلِ بیان عظمت کا ایک تصور اپنے ذہن میں لاسکتا ہے۔ جدید سائنس کئی سوسال سے فلکیات کا مطالعہ کر رہی ہے۔ اس کا آغاز 1508ء میں دور بین (telescope) کی ایجاد کے بعد ہوا۔ 1609 میں پہلی بار اٹلی کے سائنس داں گلیلیوگلیلی نے خلا کا دور بینی (telescopic) مشاہدہ کیا۔ یہ فلکیاتی مشاہدہ برابر بڑھتا رہا۔ پہلے دوربینی رصد گاہ کسی پہاڑ پر بنائی جاتی تھی۔ اب خلائی سائنس کا زمانہ آگیا ہے۔ اب انسان نے خلائی رصد گاہ (space observatory) بنالی ہے۔ اس کے ذریعے کائنات کا مشاہدہ اتنی زیادہ دور تک کرنا ممکن ہوگیا ہے، جس کی دوری کو صرف سالِ نور (light years) کی اصطلاح میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح خدا کی عظمت کو تصور میں لانے کے لیے ایک نیا وسیع تر دائرہ انسان کے علم میں آگیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک تازہ ترین فلکیاتی دریافت (discovery) سامنے آئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ خلا میں نصب الیکٹرانک دور بینوں کے ذریعے ایک بہت بڑا بلیک ہول

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader