Urdu book · خدا کی دریافت

الکسس کیرل کا تبصرہ

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنسی تحقیق میں اس طریق کار کے استعمال کے نتیجے میں بالواسطہ انداز میں خدائی حقیقتیں قابلِ دریافت ہوگئیں۔ چنانچہ بیسویں صدی میں اس موضوع پر بڑی تعداد میں مقالات اور کتابیں لکھی گئی ہیں۔ یہاں اس قسم کی صرف ایک کتاب کا حوالہ دیا جاتا ہے: The Evidence of God in an Expanding Universe: Forty American Scientists Declare Their Affirmative Views on Religion. (John Clover Monsma, G. P. Putnam's Sons, 1958, pp. 250) اس کتاب کا عربی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس کا عربی ٹائٹل یہ ہے: الله يتجلى فى عصر العلم مترجم: الدمرداش عبد المجید سرحان، مؤسسة الحلبی وشركاء للنشر والتوزیع، 1968۔ راقم الحروف اپنے بارے میں شاید یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے اس کام کو اپنا اصل موضوع بنایا۔ وسیع مطالعے کے بعد میں نے اس موضوع پر بہت سے مقالے اور کتابیں شائع کیں۔ ان میں سے ایک بڑی کتاب وہ ہے جو اردو زبان میں مذہب اور جدید چیلنج کے نام سے 1966 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کیا۔ عربی ٹائٹل کا نام ہے: الإِسْلَامُ يَتَحَدَّى۔ یہ عربی ورژن پہلی بار قاہرہ سے 1976 میں چھپا، اور یہ 196 صفحات پر مشتمل تھا۔ اس کے بعد اس کے بہت سے ایڈیشن بار بار شائع ہوتے رہے ۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ، گاڈارائزز (God Arises) کے نام پہلی بار 1987 میں دہلی سے شائع ہوا۔ کیفیاتی پہلو (qualitative aspect) کو کمیاتی پہلو ( quantitative aspect) پہلوؤں کی تفریق (delinking) کے بعد جو سائنسی معلومات سامنے آئیں، ان کو استعمال کر کے مذہب کی صداقت از سر نو ثابت شدہ بن گئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page